خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 340
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۴۰ خطبه جمعه ۱۱ را گست ۱۹۷۲ء وَ فَسَادٍ کی رو سے صلاح یعنی امن کے حالات میں تالہ بندی کے نتیجہ میں فساد کی کیفیت پیدا کرنا ہلاکت ہے اور یہ عمل سراسر باطل ہے اور حق کے صریحاً خلاف ہے۔اس سے با ہمی طور پر ہم آہنگی نہیں بلکہ دوری پیدا ہو جاتی ہے۔میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو بنیادی طور پر استعداد میں بخشی ہیں اور اس دنیا کی ہر چیز کو ان استعدادوں کے ذریعہ استعمال کے لئے پیدا کیا ہے اس کا نام ہم تسخیر عالمین رکھتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تمہارے لئے ہم نے اس عالمین کی ہر چیز کو مسخر کر دیا ہے دنیا کی ہر چیز کو تمہارا خادم بنا دیا ہے۔تمہاری قوتوں سے اثر قبول کرنے کے لئے اس کائنات کی ہر چیز کے اندر اللہ تعالیٰ نے ایک خاصیت رکھ دی ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بار بار فرمایا ہے کہ تم کوشش کرو اور ان سے فائدہ اٹھاؤ۔أهلك يا الهَلاك کے تیسرے معنے ”موت“ کے ہوتے ہیں۔ظاہر ہے جب فساد ہوتا ہے تو مزدور مارا جاتا ہے اور مارا وہ جاتا ہے جو معصوم ہوتا ہے۔مثلاً پچھلے دنوں خواہ مخواہ زبان کا جھگڑا کھڑا کر دیا گیا تھا۔چنانچہ ہنگامے ہوئے جلوس نکالے گئے۔اب جس وقت جلوس نکلتا ہے تو وہ بیچارا غریب مزدور جسے پانچ روپے دے کر کہا کہ جا کر جلوس نکالو یا کسی کے خلاف غلط باتیں بتا کر کہا کہ جا کر جلوس نکالو در اصل وہ گنہ گار نہیں وہ تو دھو کا خوردہ اور فریب خوردہ ہے۔گناہگار وہ ہیں جو غریب آدمیوں کو دھوکا اور فریب دیتے ہیں۔چنانچہ جب جلوس نکلتے ہیں تو مرتے ہیں تو بیچارے مزدور۔جو لوگ انہیں دھوکا دیتے ہیں وہ پیچھے مزے سے بیٹھے ہوتے ہیں۔پس یہ جو موت ہے یہ صریح طور پر فساد ہے۔کیونکہ قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ بغیر حق کے کسی کی جان نہیں لینی۔اس لئے ان بیچاروں کی جان لینے کا تو حق ہی نہیں بنتا لیکن ہنگامہ کھڑا کر کے شکل ایسی بنا دی کہ جان لینے والوں نے کہا کہ ان کو مارو۔حالانکہ وہ فسادی نہیں ہوتے فسادی تو پیچھے کوئی اور دماغ ہے کوئی جیب ہے جس میں پیسے بھرے ہوئے ہیں۔وہ فسادی ہے۔اس کے اوپر فساد کو دور کرنے والی تلوار چلنی چاہیے نہ کہ اس بیچارے معصوم پر جس کا دراصل قصور نہیں ہے کیونکہ وہ یا تو دھوکے میں آکر یا اپنی غربت کی وجہ سے یا پھر اس وجہ سے کہ پہلے اس کے