خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 341
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۴۱ خطبه جمعه ۱۱/اگست ۱۹۷۲ء حقوق ادا نہیں ہوئے جلوس میں شامل ہوتا ہے جس شخص کو اس کے حقوق مل چکے ہیں وہ پانچ روپے کی خاطر فساد نہیں کرے گا۔وہ اتنی تھوڑی سی رقم کی خاطر اپنی موت کو دعوت نہیں دے گا۔فساد کرنے پر وہی شخص آمادہ ہو گا جسے یا تو بہ کا یا ، ورغلایا گیا ہو یا جس کے حقوق تلف کئے گئے ہوں اور اس کو اس حالت میں کر دیا گیا ہو کہ وہ فساد میں کود پڑے یعنی خدا تعالیٰ نے اس کی جو حالت بنائی تھی اس کو بدل کر اس حالت میں کر دیا جائے کہ وہ مجبوراً پیسے لے کر فسادی گروہ میں شامل ہو جائے۔اب یہ تو ظلم ہے کہ جنہوں نے دوہرا گناہ کیا وہ تو چھوڑ دیئے جائیں لیکن جو درحقیقت معصوم تھے وہ گولیوں کا نشانہ بن جائیں۔ویسے ہم تو خدا تعالیٰ کے عاجز بندے ہیں۔اللہ تعالیٰ علام الغیوب ہے۔اس کا علم کامل ہے وہ جانتا ہے کہ کون فسادی ہے اور کون نہیں ہے لیکن بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی طرح ایسے شخص کا بھی گناہ کا منشاء نہیں ہوتا بلکہ وہ دھو کے میں آجاتا ہے۔جس طرح حضرت آدم علیہ السلام شیطان کے دھو کے میں آگئے تھے یہ مزدور بیچارے بھی دھو کے میں آجاتے ہیں اور بعض اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔بهر حال يُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ “ میں يُهْلِكَ کے یہ تین معنے ہیں۔میں نے بتایا تھا کہ اس وقت صرف ہمارے ملک ہی میں نہیں بلکہ ساری دنیا میں ظهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ کی حالت ہمیں نظر آتی ہے۔قرآن کریم کی اس پیشگوئی کے مطابق ہمیں ہر جگہ فتنہ و فساد دکھائی دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو مفسد ہے وہ ہلاکت کے سامان پیدا کرتا ہے۔چنانچہ اردو میں جب ہم یہ کہتے ہیں کہ کوئی شخص ہلاکت کے سامان پیدا کرتا ہے یا عربی زبان میں کہیں اهْلَكَ “ تو اس کے تین معنے ہوتے ہیں۔ایک یہ کہ جن چیزوں پر ان کا ( مزدور کا ) حق تھا اور جو ان کو ملی تھیں وہ ان سے چھین لی جائیں اور وہ کسی اور کے پاس چلی جائیں۔یہ معنے آج کی دنیا پر چسپاں ہوتے ہیں۔دوسرے معنے کچھ تھوڑے سے اختلاف اور شاخوں کے ساتھ تَحَولَ مِنْ حَالٍ إِلى آخر “ اور ”صار محالا “ کے لحاظ سے یہ ہیں کہ مفسد ہلاکت کے اسباب پیدا کر دیتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔جن سے اللہ تعالیٰ پیار نہیں کرتا بلکہ ان کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔تیسرے معنے موت کے ہیں۔مفسد بے گناہوں کی موت کے سامان بھی پیدا کر دیتا ہے۔غرض 66