خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 339
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۳۹ خطبه جمعه ۱۱ راگست ۱۹۷۲ء البتہ جسم کے ذرے بالکل ضائع نہیں ہو جاتے یہ موت والی ہلاکت بھی ایک خاص معنی میں استعمال ہو سکتی ہے۔چنانچہ اسی واسطے امام راغب نے اس کو علیحد ہ تیسری شکل میں ہمارے سامنے رکھا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ صلاح کا دعوی کرنے والے بڑے بڑے لوگ ہیں۔یہ در حقیقت دنیا میں فساد کرنا چاہتے ہیں۔یہ ہر قسم کی (ہر سہ معنی میں ) ہلاکت کی تدبیریں کرتے ہیں۔ایک یہ کہ جن لوگوں کا کسی چیز کا حق بنتا ہے ایسے سامان پیدا کر دیتے ہیں کہ ان کے ہاتھ میں وہ چیز نہ رہے یعنی وہ چیز تو قائم رہے مگر جس کا اس پر حق تھا اس کے پاس نہ رہے دوسرے یہ کہ جو چیز ان کے پاس ہو اس کے اندر خرابی پیدا ہو جائے جیسا کہ مثلاً ( ذرا سوچنے سمجھنے کی بات ہے ) بلیک مارکیٹنگ ہے۔یہ کھانے میں پیدا ہونے والی خرابی تو نہیں لیکن انسان کے ہاتھ میں مثلاً نقدی ہے اس میں یہ خرابی پیدا ہوگئی کہ پہلے ایک روپے میں مثلاً تین سیر آٹا ملتا تھا مگر بلیک مارکیٹنگ کے نتیجہ میں اسی روپے سے ڈیڑھ سیر آٹا ملتا ہے۔پس اس روپے کا جو استعمال اور استفادہ ہے اس کے اندر خرابی پیدا ہو گئی۔گو یہ دال کے ابلنے والی خرابی تو نہیں ہے مگر روپے کی قدر یا قیمت میں خرابی کے مترادف ضرور ہے۔پھر یہ کہ ایسی صورت میں صلاح کی بجائے فساد کی حالت پیدا ہو جاتی ہے مثلاً یہ کارخانوں کی جو تالہ بندی ہے اس سے بھی فساد پیدا ہوتا ہے۔اس سے صلاح کی حالت فساد کی حالت میں بدل جاتی ہے اور وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے مزدوروں کو کام کرنے کی جو قو تیں اور طاقتیں عطا فرمائی ہیں کارخانے داران کا وہ حق ادا نہیں کر سکتے۔مگر جتنا وہ کام کر سکتے تھے تالہ بندی کے نتیجہ میں اس کے دروازے بھی الٹے بند ہو گئے۔دوسرا کام ان کو کوئی ملا نہیں تو ظاہر ہے وہ خود بھو کے رہیں گے۔ان کے بچے بھوکے رہیں گے جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔حالتِ صلاح کی بنیادی کیفیت یہ ہے کہ حقوق ادا ہوں لیکن جس مزدور کے اوپر تالہ بندی کے نتیجہ میں کام کا دروازہ بند کر دیا گیا تو ایک طرف اس کی طاقتوں اور قوتوں کی نشو و نمارک گئی دوسری طرف اس کے حقوق کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے وہ اور بھی زیادہ مفلوک الحال ہو گیا۔پس هَلَاكُ الشَّيْءِ بِاسْتِحَالَةٍ