خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 300
خطبات ناصر جلد چہارم خطبہ جمعہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۷۲ء فراست کی کمی ہے لیکن کچھ اُن میں اچھی باتیں بھی ہیں البتہ اُن کی جو اچھی چیزیں ہیں۔وہ انسان کی ساری ضرورت کو مکمل طور پر پورا نہیں کر سکیں۔انسان کی ساری ضرورتوں کو پورا کرنے کا دعویٰ صرف قرآن کریم کرتا ہے اور کہتا ہے۔وَكُلَّ شَيْءٍ فَضَلْنَهُ تَفْصِيلًا - ( بنی اسراءیل : ۱۳) اس آیہ کریمہ کے اس ٹکڑے کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اس کے ایک معنے یہ ہیں کہ قرآن کریم کی ہدایت اور شریعت اور تعلیم انسان کی جزوی ترقی کے لئے نہیں آئی بلکہ کلی ترقی کے لئے آئی ہے چنانچہ ایک اور جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے اسلام انسان کے درخت وجود کی ہر شاخ کی پرورش کرنے والا ہے۔انسان کے درخت وجود کی جس قدر ہمہ گیر ترقی ہوسکتی تھی یعنی اس کی ہر شاخ خوبصورت ہو اس کے لئے قرآن کریم میں مکمل تعلیم موجود ہے ہم اس حسین تعلیم پر عمل نہ کریں تو اس کے ہم ذمہ دار ہیں۔اس کا الزام ہم پر آئے گا۔اسلام کی تعلیم پر اس کا الزام نہیں آئے گا لیکن سوال یہ ہے۔ہم کیوں اس پر عمل نہ کریں ہمارے سامنے اچھی گرم گرم روٹی آئے تو اپنی عادت سے بھی زیادہ کھا جاتے ہیں ایک وقتی لذت کے لئے اپنا پیٹ خراب کر لیتے ہیں۔کسی آدمی کو کوئی چیز پسند ہے، کسی کو کوئی چیز پسند ہے۔جن لوگوں کو آم پسند ہیں کھانا کھا چکنے کے بعد اگر ان کے پاس آم آجائیں تو وہ سارے کھا جائیں گے۔کسی آدمی کو انگور پسند ہیں تو وہ بے تحاشہ انگو رکھا جائے گا۔غالباً ہمارے بابر بادشاہ کا واقعہ ہے ایک دفعہ قندھار کی طرف سے اونٹوں پر بڑے موٹے موٹے آڑوؤں کے ٹوکرے آئے جن کی تعداد شاید ۱۶۵ تھی ( پہلے تو صوبہ سرحد میں بھی بڑے موٹے موٹے آڑو ہوا کرتے تھے ) بابر آخر بادشاہ تھے۔اُنہوں نے دُنیا کو بھی کھلانا ہوتا تھا اور پھر ان کی فطرت پر اسلام کا بھی اثر تھا۔اُنہوں نے ہر ایک ٹوکرے میں سے ایک ایک آڑو نکال کر کھا لیا ور اس طرح ایک اندازہ کے مطابق اُنہوں نے قریباً ۲۴ سیر آڑو کھائے۔یہ دیکھنے کے لئے کہ کس قسم کے آڑو میری طرف بھیجے گئے ہیں پس کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جس کو آڑو پسند ہیں وہ بے تحاشہ آڑو کھا جاتا ہے جس کو آم پسند ہیں وہ آم کھا جاتا ہے اور جس کو گرم گرم مزے دار روٹی