خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 301 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 301

خطبات ناصر جلد چہارم خطبہ جمعہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۷۲ء مل جائے وہ بہت ساری روکھی روٹی کھا جاتا ہے۔مگر اسلامی تعلیم جو کامل لذت اور کامل افادہ کا ذریعہ ہے اُسے لوگ ساری کی ساری کیوں نہیں لیتے ؟ جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کوئی آدمی اپنے شوق میں آم کھا گیا یا آڑو کھا گیا یا گرم گرم روٹی کھا گیا تو اس سے ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ اسلام اور اس کی تعلیمات کو بھی پورے کا پورا لے لینا چاہیے کیونکہ اس سے اچھی اور لذیز چیز اور کوئی نہیں۔یہ اللہ تعالیٰ سے پیار کرنے کا ذریعہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے پیار سے زیادہ لذت والی چیز تو کوئی اور نہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بات کو بڑی کثرت سے بیان فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ قرآن کریم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا پیار ملتا ہے اور یہ ہمارا ذاتی مشاہدہ ہے اس لئے قرآن کریم پر ہم کیوں عمل نہ کریں۔پس قرآن کریم کا دعویٰ یہ ہے اور ہمارا مشاہدہ یہ ہے کہ یہ انسان کے درخت وجود کی ہر شاخ کی پرورش کرنے والا ہے۔یہ انسان کی جزوی ترقی کے لئے نازل نہیں ہوا بلکہ اس کی کلی ترقی کے لئے نازل ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو جتنی بھی استعداد یں، قوتیں اور صلاحیتیں دی ہیں، ان کی کامل پرورش کے لئے قرآن کریم میں مکمل تعلیم موجود ہے۔اس واسطے یہ ایک عظیم۔کتاب ہے۔ہر احمدی بچے، جوان، بوڑھے اور ہر احمدی مرد اور عورت کو چاہیے کہ وہ اس عظیم کتاب پر غور کیا کرے۔تمام احمدی اس پر غور کریں اور غور کریں اور اس میں سے اپنی جسمانی، ذہنی ، اخلاقی اور روحانی لذتوں کے سامان تلاش کریں کیونکہ حقیقت یہی ہے اور اسی کی طرف آج ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ پکڑ کر سختی کے ساتھ جھنجھوڑ کر لایا گیا ہے۔فرمایا " الْخَيْرُ كُلُّهُ فِي الْقُرْآنِ ہر قسم کی بھلائی قرآن کریم میں ہے اس پر غور کرو اور ہر اچھی بات اس میں سے تلاش کرو۔پس قرآن کریم بڑی عظمت والی اور بڑی بلندشان والی کتاب 66 ہے۔اب اس کے متعلق آج میرا یہ دوسرا خطبہ ہے۔میرے پہلے خطبہ کا عنوان تھا 19991 ا - وَقَالَ الرَّسُولُ يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا - (الفرقان : ۳۱) ٢ - وَمَا اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ إِلا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ - (النحل : ۶۵) لے اللہ تعالیٰ ہمیں اس بنیادی حکم کو بجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔