خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 299 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 299

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۹۹ خطبہ جمعہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۷۲ء مطابق انہوں نے اپنے ساتھ تعلق رکھنے والے انسانی گروہ کی جزوی ترقیات پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن کلی ترقیات کے سامان پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی۔انسان کو اللہ تعالیٰ نے جہاں اور بہت ساری صلاحتیں دی ہیں وہاں روحانی طور پر بھی استعدادیں بخشی ہیں۔اب نہ سرمایہ دارانہ نظام انسان کی روحانی استعدادوں ، روحانی قدروں اور روحانی صلاحیتوں کی نشوونما کی طرف متوجہ نظر آتا ہے اور نہ اشترا کی نظام اس طرف متوجہ نظر آتا ہے۔پھر روس نے تو اخلاقیات کو بھی بالکل چھوڑ دیا تھا۔ان کے نزدیک اخلاقی طاقتیں گویا موجود ہی نہیں۔اُنہوں نے اخلاقی طاقتوں کو پہچاناہی نہیں تو پھر ان کے متعلق اُنہوں نے کوشش کیا کرنی تھی۔چین نے اخلاقیات کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنایا ہے لیکن روحانی استعدادوں کو اُنہوں نے بھی بالکل نظر انداز کر دیا ہے۔غرض روس اور چین یہ بات کھلم کھلا کہتے ہیں کہ روحانی استعدادوں کا تو وجود ہے ہی نہیں لیکن حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک انسانوں میں سے لاکھوں بزرگوں اور مقربین الہی کا یہ مشاہدہ اور تجربہ ہے کہ اللہ ہے اور روحانی اقدار ہیں اور ان کو اپنی اپنی استعداد کے مطابق بڑھانا چاہیے۔غرض یہ ایک مختصر تاریخی پس منظر ہے قرآن کریم کی عظمت اور نشان کو سمجھنے کے لئے انبیاء علیہم السلام کے سلسلہ کو لیں۔ہر نبی کی تعلیم انسان کی جزوی ترقیات کے سامان پیدا کر رہی ہے اور انسان کو درجہ بدرجہ اعلیٰ مقام کی طرف لے جا رہی ہے چنانچہ ایک کے بعد دوسرا نبی آیا اور اُس نے انسان کے لئے جزوی ترقیات کے سامان فراہم کئے۔کہتے ہیں ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی دُنیا کی طرف مبعوث ہوئے تو ہم کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے وہ ایک لاکھ چوبیس ہزار سیڑھیاں چڑھا کر انسان کو بلند ترین مینار کی اس چوٹی پر لے گئے جو انسانِ کامل حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ہے۔موجودہ زمانہ کے فلاسفر اور تھنکر زیعنی حقائق اشیاء کے متعلق غور اور تدبر کرنے والے لوگوں میں کچھ خوبیاں بھی نظر آتی ہیں۔آخر وہ بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے۔کلی طور پر عیب تو ان کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا گوان کے اندازِ فکر میں برائی زیادہ ہے، کم عقلی زیادہ ہے۔اُن میں