خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 242 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 242

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۴۲ خطبہ جمعہ ۱۶/جون ۱۹۷۲ء غرض جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور اس کے قرب کی امید نہیں رکھتا یوم آخر پر ایمان نہیں لاتا اور اس کے نتیجہ میں ذکر الہی نہیں کرتا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ سے متاثر نہیں ہے اور اس کامل اسوہ سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔آپ کا اسوہ حسنہ تو بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے ہے مگر وہ اس سے کام نہیں لیتا۔وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔پس اگر کسی ایسے شخص کے سامنے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتا۔آپ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے حالات پیش کریں گے تو اپنا وقت بھی ضائع کریں گے اور اس کا وقت بھی ضائع کریں گے کیونکہ وہ تو اللہ تعالیٰ پر ایمان ہی نہیں لاتا۔اس واسطے اس کے نزدیک یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نبی مبعوث ہو یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خاتم النبیین آئے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کو نہیں مانتا۔اگر آپ ایسے شخص کے سامنے جا کر کہتے ہیں کہ دیکھو! اسلام کی تعلیم کتنی احسن اور کتنی اچھی ہے۔اس پر چلنے سے اُخروی زندگی کی ساری نعمتیں مل جاتی ہیں تو وہ کہے گا جاؤ آرام سے بیٹھو۔مجھے اُخروی زندگی کے متعلق کیا بتاتے ہو۔میرا اس پر ایمان ہی نہیں ہے۔اس لئے اگر آپ نے ان ہر دو گروہوں کو تبلیغ کرنی ہو اور اسلام کی طرف لانا ہو تو آپ کے لئے یہ ضروری ہے کہ پہلے آپ اُن کا اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کی صفات کا یقین پیدا کریں۔جس رنگ میں اسلام نے اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات کو پیش کیا ہے۔اس رنگ میں ان کے سامنے پیش کریں اور دلائل دیں۔جب وہ ان دلائل کو مان جائیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی جو صفات اسلام نے بیان کی ہیں اور جن سے خود قرآن کریم نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان صفاتِ حسنہ کا مالک ہے مثلاً وہ جزا وسزا کا مالک ہے۔اگر جزا و سزا نہ ہو تو ماننا پڑے گا کہ یہ دنیا اور اس کی پیدائش ایک کھیل ہے اور چونکہ دنیوی اعمال کی جزا و سزا مقرر ہے اس لئے یہ دنیا کھیل نہیں ہو سکتی اللہ تعالیٰ تمام صفات حسنہ کا مالک ہے۔اس کی کوئی پیدائش کھیل نہیں ہو سکتی اس لئے آخرت پر ایمان لانا ضروری ہے۔پس ایسے شخص کے سامنے پہلے اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات پیش کریں گے تاکہ پہلے وہ اللہ تعالیٰ