خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 243
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۴۳ خطبہ جمعہ ۱۶ / جون ۱۹۷۲ء پر ایمان لائے۔قرآن کریم نے ہستی باری تعالیٰ کے بے شمار دلائل دیئے ہیں۔پھر وہ آخرت پر ایمان نہیں لاتا۔وہ کہے گا ٹھیک ہے میں خدا تعالیٰ کو مانتا ہوں لیکن میں یہ نہیں مانتا کہ اللہ تعالیٰ یا اس کی صفات حسنہ کا یہ مطالبہ تھا کہ اُخروی زندگی ہو۔یہ دنیا کھیل نہ ہو۔وہ کہتا ہے یہی دنیا ہے۔یہی کھیل ہے اور یہی سنجیدہ زندگی ہے اور جب ہم اس دنیا میں مر جائیں گے تو پھر اٹھائے نہیں جائیں گے۔اب ایسے شخص سے اگر آپ یہ کہیں گے کہ اسلامی تعلیم پر چل کر تمہیں خدا تعالیٰ کی رضا کی جنتیں مل جائیں گی تو اس کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔وہ کہے گا میں تو اُخروی زندگی پر ایمان ہی نہیں لاتا۔اس لئے تمہارے سارے دلائل بیچ ہیں ایسے شخص کے سامنے آپ اُخروی زندگی کے دلائل پیش کریں گے۔یہی ایک طریق ہے جس کی بدولت آپ اس کو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لا سکتے ہیں اس کے بغیر آپ اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نہیں لا سکتے۔پس یہ آیات جو میں نے شروع میں تلاوت کی تھیں اُن میں سے پہلی آیت اصولی تھی اور وہ در اصل عنوان ہے اس سارے سلسلہ ہائے خطبات کا جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کے فضل سے میں امید کرتا ہوں کہ میں انشاء اللہ آئندہ دوں گا۔چونکہ یہ مختلف قسم کے لوگوں کے گروہ ہیں اور وہ مختلف خیالات رکھتے ہیں۔اس لئے ان کے متعلق مختلف رنگ میں تیاری کرنی پڑے گی۔ہم نے ہستی باری تعالیٰ کے متعلق بہت کچھ کہا اور لکھا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہستی باری تعالیٰ کے اوپر جتنا مواد ہماری کتب میں پایا جاتا ہے اتنا شاید کسی اور جگہ نہ ہولیکن یہ مضمون جتنا اور جس رنگ میں قرآن کریم میں بیان ہوا ہے اس کی پوری تفصیل یکجائی طور پر ہمارے نوجوانوں کے سامنے ابھی تک نہیں۔یہ تفصیل اُن کے سامنے آنی چاہیے۔اسی طرح اُخروی زندگی کے متعلق اسلام کی تعلیم اور قرآن کریم کا حکیمانہ بیان یعنی جو اس نے اس سلسلہ میں دلائل دیئے ہیں وہ بھی ان کے سامنے آنے چاہئیں۔پس ایسے لوگ جو اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان نہیں لاتے تم انہیں پہلے اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اُخروی زندگی کا قائل کرو۔اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان لانے کی توفیق کے حصول کے لئے تم اُن کے