خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 241 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 241

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۴۱ خطبہ جمعہ ۱۶/جون ۱۹۷۲ء وہ اصلی تو رات میں موجود ہے لیکن وہ ان لوگوں کے لئے ہدایت ہو سکتی ہے جو يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالغیب کے مصداق ہیں یعنی وہ لوگ جو اپنے رب کے مقام کو پہچان کر اس کے سامنے عاجزانہ طور پر جھکتے ہیں اور هُم مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُونَ یعنی اخروی زندگی اور اس کے متعلق جزا وسزا کا جو قانون ہے وہ اسے سمجھتے ہیں اور اس کا خوف ان پر طاری رہتا ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ اس ور لی مختصر اور نا پائیدار زندگی کے بعد ایک ابدی حیات ملنی ہے اور اس کے لئے ہمیں نیک کام کرنے چاہئیں تا کہ اللہ تعالیٰ ہم سے اپنی رضا کا سلوک کرے۔پس اس آیت میں یہ بتا یا گیا ہے کہ ۱۔جو شخص خدا تعالیٰ کو نہیں مانتا یا ۲۔جو شخص اُخروی زندگی پر ایمان نہیں لاتا اس کے لئے یہ تورات اور قرآن کریم ) " ذكرا نہیں ہے۔یہ اس کے لئے ہدایت کا موجب نہیں ہے یہ اس کے لئے نصیحت کا موجب نہیں ہے البتہ یہ ان متقیوں کیلئے ہدایت کا موجب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے اور اس کی صفات کی معرفت رکھتے ہیں۔جو آخرت پر بھی ایمان رکھتے اور اس کی جزا وسزا پر بھی یقین رکھتے ہیں وہ اس خوف میں رہتے ہیں کہ پتہ نہیں خدا تعالیٰ کا پیار ملے گا یا خدا جانے ہم اس کے غضب کا مورد بن جائیں گے۔اس لئے ان کو یہ کہا گیا تھا کہ آخرت کے خوف سے ہمیشہ ڈرتے رہنا (اور چونکہ یہ ایک ہی بات ہے جو ان کو بھی کہی گئی تھی اور ہمیں بھی کہی گئی ہے اور ہمارے سامنے بھی یہی مضمون ایک اور رنگ میں دہرایا گیا ہے اس لئے جو ہمیں کہا گیا ہے میں اس کو لے لیتا ہوں ) اللہ تعالیٰ سورۃ احزاب میں فرماتا ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے لئے ایک اعلیٰ نمونہ ہیں۔لکھ، میں تمام بنی نوع انسان مخاطب ہیں۔اس لئے سب انسانوں کے لئے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی ایک کامل اسوہ اور ایک اعلیٰ اور حسین نمونہ ہے لیکن اس سے فائدہ وہی اٹھائے گا جو يَرْجُوا اللہ کی رو سے اللہ تعالیٰ سے ملنے کی امید رکھتا ہو اور اس کے قُرب کے پانے کی امید رکھتا ہو۔نیز وَالْيَوْمَ الأخر یعنی وہ اُخروی زندگی پر بھی ایمان لاتا ہو اور یہ یقین رکھتا ہو کہ اس دنیا میں موت کے بعد ایک نئی زندگی ملے گی اور اس لئے وہ ذکر اللهَ كَثِيرًا اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کرتا ہے۔د