خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 116 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 116

خطبات ناصر جلد چہارم ١١٦ خطبہ جمعہ ۱۷ / مارچ ۱۹۷۲ء کے رب ہونے کی سچی معرفت حاصل ہو تو یہی دراصل اس کی ترقی کا زینہ اور فلاح کی کنجی ہے۔چنا نچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو میرے ایسے بندے ہوتے ہیں یعنی جولوگ استقامت دکھاتے ہیں۔حق کے ہر کام میں ثبات قدم ہوتا ہے۔جو میرے قریب آکر پھر دُور نہیں ہو جاتے بلکہ میرے قریب سے قریب تر ہونے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور وہ جو میری صفات کا رنگ اپنے اوپر چڑھاتے اور اپنی قوتوں کو جنہیں میں نے عطا کیا ہے میری ہی بیان کردہ ہدایات کے مطابق ان کو نشو و نما دینے کی کوشش کرتے اور اپنی دعاؤں کے ذریعہ میرے فضل کو جذب کرتے ہیں۔فرماتا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کے فرشتے نازل ہوتے ہیں اور انہیں یہ تسلی دلاتے ہیں کہ تمہاری انتہائی کوشش کے باوجود اگر کوئی بشری کمزوریاں رہ گئی ہوں تو حزن نہ کرو۔اللہ تعالیٰ ان کمزوریوں کو ڈھانپ دے گا اور ان کے بداثرات سے تمہیں بچالے گا لیکن اگر اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کچھ لوگ خدا تعالیٰ کی ہدایت پر عمل کرنے کی بجائے اور اس کی آواز پر لبیک نہ کہتے ہوئے شیطان کی طرف مائل ہوتے ہیں۔نیز اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو ذاتی حقوق دیئے ہیں اور اس نے اسلام کو ساری دنیا پر غالب کرنے کے لئے جو مہمات چلائی ہیں، ان کے راستے میں وہ روک بنتے ہیں تو ان سے ڈرنے کی بات نہیں ہے کیونکہ وہ تمہارے رب نہیں ہیں تمہارا رب تو اللہ تعالیٰ ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے انسان کو مختلف قسم کی قوتیں اور صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں۔جن میں بنیادی طور پر جسمانی قوتیں اور صلاحیتیں ہیں اور جن کی صحیح نشوونما ہونی چاہیے اور جن کی حقیقی اور صحیح حفاظت ہونی چاہیے۔بہت سے نوجوان اور کم عمر بچے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو گندی عادتیں پڑ جاتی ہیں۔جس سے ان کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور منشاء کے مطابق اور اس کے بتائے ہوئے طریق پر انسان کو اپنی صلاحیتوں اور استعدادوں کو اجاگر کرنا چاہیے۔ان کو نشوونما دینا چاہیے۔دعاؤں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کو جذب کر کے اپنی قوتوں کی نشوو نما کو حد کمال تک پہنچانا چاہیے۔چنانچہ اس سلسلہ میں میں نے پندرہ دن پہلے ایک مجلس صحت قائم کی تھی اور کہا تھا کہ