خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 117
خطبات ناصر جلد چہارم 116 خطبہ جمعہ ۱۷ / مارچ ۱۹۷۲ء اگلے جمعہ ( یعنی ۱۰ / مارچ تک یہ کام شروع ہو جانا چاہیے یعنی کام کی ابتداء کر دی جائے۔چنانچہ انتظامیہ بن گئی اور گذشتہ جمعہ کو پہلا وقار عمل ہوا۔آج صبح دوسرا وقار عمل کیا گیا جس کا کچھ حصہ میں نے بھی جا کر دیکھا تھا۔غرض اس سلسلہ میں کام کی ابتداء ہو گئی ہے۔اللہ تعالیٰ اسے انتہاء تک پہنچانے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔ویسے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی انتہاء تو ہوتی ہی نہیں۔تاہم یہ کام شروع ہو چکا ہے۔اب ہم انشاء اللہ خدا کے فضلوں کو جذب کریں گے اور جذب کرتے چلے جائیں گے۔صحت کے قیام اور جسمانی قوتوں کی کامل نشو و نما کے لئے صرف ورزش کافی نہیں۔ہمارا ماحول بھی ایسا ہونا چاہیے جس میں گندگی نہ ہو کیونکہ ایک صحت مند ماحول کے اندر صحیح طریق پر جو ورزش کی جاتی ہے وہی جسموں کو مضبوط اور محنت کے قابل بناتی ہے اور ذہنی جد و جہد اور اخلاقی کوشش کے لئے سامان پیدا کرتی ہے۔پھر یہ قدم ہم اس لئے بھی اٹھاتے ہیں کہ ہمارے لئے اگلا قدم اُٹھانا آسان ہو جائے یعنی ذہنی طور پر بھی ہم محنت کرنے کے زیادہ قابل ہو جائیں۔پھر اس کے بعد تیسرا قدم ہے اخلاقی ذمہ داریوں کے نباہنے کا اور پھر اس سے اگلا قدم ہے روحانی ذمہ داریوں کے نباہنے کا۔غرض ذہنی، اخلاقی اور روحانی ذمہ داریوں کے نباہنے کے لئے بھی مضبوط جسم کی اشد ضرورت ہے۔بہر حال مجلس صحت کے کام کی ابتداء ہوگئی ہے۔ان دو ہفتوں میں کچھ ستی بھی نظر آئی ہے جس کی طرف میں آپ کو تو جہ دلانا چاہتا ہوں۔پہلے ہفتہ میں ربوہ کے جتنے احباب وقار عمل میں شامل ہوئے تھے آج اس سے کچھ کم شامل ہوئے ہیں۔یہ غلط بات ہے ہر دفعہ زیادہ سے زیادہ احباب کو وقار عمل میں شامل ہونا چاہیے۔اگر ہر روز جماعت احمدیہ میں کئی بچے پیدا ہوتے ہیں ( گو یہ ٹھیک ہے کہ ربوہ میں تو روزانہ شاید ایسا نہیں ہوتا ہوگا لیکن جماعت احمدیہ میں بحیثیت مجموعی ) ہر روز کئی بچے اطفال الاحمدیہ کی تنظیم میں پہنچنے چاہئیں۔جو دوست اپنے بچوں کے مجھ سے نام رکھواتے ہیں ان کی تعداد بھی ہر روز قریباً دس پندرہ تو ضرور ہوتی ہے حالانکہ بہت کم احباب ہیں جو مجھ سے نام رکھواتے ہیں۔خود ہی اپنے