خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 115 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 115

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۱۵ خطبہ جمعہ ۱۷؍ مارچ ۱۹۷۲ء جس چیز پر ہمیشہ ہی عمل کرتے رہنا چاہیے وہ عاجزی ہے اس لئے آپ کو عاجزانہ راہیں اختیار کرنی چاہئیں خطبه جمعه فرموده ۱۷ مارچ ۱۹۷۲ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ بنصرہ نے یہ آیات پڑھیں :۔إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ ابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنْتُمْ تُوعَدُونَ - نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِيَ أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ - حم السجدة : ۳۱، ۳۲) اور پھر فرمایا:۔ایک انسان کی حقیقی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے اس مقام کو پہچانے کہ وہ عبد ہے اور اللہ تعالیٰ اس کا رب ہے۔جو لوگ زبانِ حال اور زبان قال سے اور اپنے عمل یعنی فعل اور قول کی رو سے یہ کہتے ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے۔اس نے ہمیں پیدا کیا ہے اس نے ہمیں صلاحیتیں اور استعدادیں بخشی ہیں اور وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ سامانوں اور اسی کی ہدایت کے نتیجہ میں اور اسی کی منشاء اور تصرف سے ہر انسان لمحہ بہ لمحہ ایک حال سے دوسرے حال کی طرف منتقل ہوتے ہوئے اپنی حد کمال تک پہنچتا ہے۔تو انسان کو اگر اپنی عاجزی کا شدید احساس ہو اور اللہ تعالیٰ