خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 78
خطبات ناصر جلد چہارم ZA خطبہ جمعہ ۳/ مارچ ۱۹۷۲ء باقی زمین بخوشی حکومت کے حوالے کر دیں تو اس سے قوم کو بھی فائدہ ہے اور ذاتی طور پر ان کو اور ان کے خاندان کو بھی فائدہ ہے۔اس وقت حال یہ ہے (اور مجھے امید ہے کہ حکومت بھی اس طرف توجہ کرے گی ) کہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ایکٹر زمین ایسی ہے جس میں مالکوں نے ہل تک نہیں چلا یا مثلاً یہ بڑھ کا علاقہ ہے اس کا ایک حصہ لوگوں نے دس سالہ یا پانچ سالہ لیز پر لیا ہے اور اب پہلی دفعہ وہاں زراعت ہونے لگی ہے چنانچہ جس علاقہ کو کئی سو سال سے نا قابل زراعت سمجھا جا رہا تھا وہ اس وقت بڑا ہی پیدا وار دے رہا ہے اور جو ذاتی یعنی انفرادی ملکیت کے علاقے ہیں وہاں اب بھی بہت سی زمین خالی پڑی ہوئی ہے۔چنانچہ لالیاں کے پاس ایک پل ہے اس کے اور لالیاں کے درمیان ایک ایسی جگہ نظر آتی ہے جہاں کبھی پانی ہوتا تھا اب وہاں پانی نہیں رہا کیونکہ ٹیوب ویل لگ گئے ہیں۔اس لئے پانی خشک ہو گیا ہے یہ زمین بڑی اچھی ہے کیونکہ کئی سو سال سے اسے جانوروں کا پیشاب اور گوبر کی کھاد ملتی رہی ہے اس لئے یہ زمین ہے تو بڑی اچھی لیکن چونکہ وہ اردگرد کے دیہات والوں کی ملکیت ہے اور اُن کے پاس اس سے بہت اچھی زمین موجود ہے۔اس لئے وہ مزے لے رہے ہیں اور یہ زمین خالی پڑی ہوئی ہے۔اس کی طرف اُن کو تو جہ ہی نہیں ہے۔اس طرح کی جو زمینیں خالی پڑی ہوئی ہیں، ان کو رکھنے کا عقلاً اور شرعا کسی کو حق ہی نہیں ہے۔اب جس زمین کو تم استعمال میں نہیں لا سکتے اُسے بخوشی حکومت کے حوالے کر دو کیونکہ ایسی زمین کو تم استعمال میں نہ لا کر اپنے بھائی کا نقصان کر رہے ہو۔پس حکومت کو چاہیے کہ وہ اس طرف بھی توجہ دے اور ایسی زمین جس میں کاشت کی جاسکے اور کاشت سے میری مراد یہ نہیں کہ وہاں کپاس لگ سکے یا وہاں گندم لگ سکے یا وہاں چاول لگ سکے بلکہ اگر وہاں بیریاں لگ سکیں یا جھاڑیاں لگ سکیں جو وہاں لکڑیاں پیدا کریں۔ہر وہ چیز جو اس زمین کے درختوں کے نتیجہ میں اور کھاد اور اس کے استعمال کے نتیجہ میں پیدا ہو وہ دراصل اسی کھیتی کی پیداوار ہے بہر حال ایسی زمینوں کو بھی آباد کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک نعمت عطا فرمائی ہے اس لئے ہمیں اس کا ناشکرا بندہ نہیں بننا چاہیے۔