خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 77 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 77

خطبات ناصر جلد چہارم LL خطبہ جمعہ ۳/ مارچ ۱۹۷۲ء آپ کے اس ارشاد کی تعمیل میں جس آدمی کے پاس ایک من کھجور تھی وہ بھی لے آیا اور جس کے پاس دو کھجور میں بچی ہوئی تھیں وہ بھی لے آیا۔آپ نے سب میں برابر تقسیم کر دیں۔اب جس سے آپ نے ایک من کھجور لی تھی اس کو آپ نے پیسے نہیں دیئے اور نہ اُن سے پیسے لئے تھے جن میں آپ نے تقسیم کیں تھیں۔یہ بھی ایک اعتراض ہے کہ دیکھو جی کہتے ہیں پیسے دیئے بغیر زمین لے لینی ہے۔مگر وہ یہ نہیں سوچتے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کے کب پیسے دیئے یا لئے تھے۔اگر آج حکومت انہیں پیسے دے تو پھر جن کو حکومت دے گی ان سے بھی پیسے لے گی۔مگر جس غریب کو ساڑھے بارہ ایکٹر زمین دی جا رہی ہے اس کے گھر میں تو کھانے کے لئے پہلے ہی کچھ نہیں۔وہ ساڑھے بارہ ایکٹر کے پیسے کہاں سے دے گا۔اگر آپ کہیں کہ وہ قسط وار دے گا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اگلے دس پندرہ سال تک پہلے سے بھی زیادہ تنگی کے ساتھ زندگی گزارے گا۔پس اگر چہ اس زرعی اصلاحات کے اعلان سے چند ہزار آدمیوں کو چبھن ضرور ہے۔ان کو تکلیف ضرور ہو گی۔لیکن انہیں چاہیے کہ اس تکلیف کا اندازہ لگائیں جو اس وقت کروڑوں آدمیوں کو لاحق ہے اور پھر اس نئے انتظام میں بھی جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے۔لوگوں کی ساری تکلیفیں دور نہیں ہوں گی اور نہ ہی عقلاً دور ہو سکتی ہیں۔آپ کسی کاغذ پر حساب لگا کر دیکھ لیں کہ کتنے آدمیوں میں زمین تقسیم ہونی ہے اور ان کو کتنی کتنی زمین ملے گی۔بڑی تھوڑی زمین ملے گی کیونکہ اب بھی ایک بڑا یونٹ جو باقی رکھا گیا ہے۔ان چند ہزار لوگوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ جو زمین تمہارے پاس باقی رہ گئی ہے اس سے تم زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھاؤ۔اگر تم زیادہ سے زیادہ محنت زیادہ توجہ اور زیادہ ہوشیاری سے سرمایہ لگا کر اور کھاد دے کر اور پانی کا بہتر انتظام اور نگرانی کر کے اُس کی آمد دس گنا تک لے جاؤ تو اس طرح گویا تمہاری زمین ۱۱۵۰ یکٹر سے دس گنا بڑھ گئی یعنی ۱۱۵۰۰ یکٹر ہو گئی اور اسی طرح اگر تم اپنی آمد میں گنا تک لے جاؤ تو پھر تو تم تین ہزار ایکٹر کے مالک بن گئے اب زمین کو تو کسی نے چاٹنا نہیں۔زمین کا مطلب وہ آمد ہے جو اس سے حاصل ہوتی ہے۔اگر یہ چند ہزار لوگ اپنی