خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 600 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 600

خطبات ناصر جلد چہارم ۶۰۰ خطبہ جمعہ ۲۲؍دسمبر ۱۹۷۲ء لئے کمزور ہو رہا ہے کہ ان کے اخلاص میں زیادتی ہو گئی ہے جہاں پہلے وہ اپنے گھر میں دو گھرانوں کو ٹھہراتے تھے وہاں اب وہ چار چار پانچ پانچ گھرانوں کو ٹھہرانے لگے ہیں۔غرض اس لحاظ سے یعنی مکان میں وسعت نہ ہونا یہ بات بڑی فکر پیدا کرنے والی ہے آخر ہمارے جو مہمان آئیں گے ان کو اس سردی میں سر چھپانے کے لئے کوئی نہ کوئی جگہ تو دینی پڑے گی وہ ہم سے چار پائیاں نہیں مانگتے وہ تو صرف یہ کہتے ہیں کہ ہمیں نیچے زمین پر سونے کے لئے پرالی یا کسیر بچھا دو۔پہلے ہم بامر مجبوری دب کے چھنے والے پتے یا گنے کے چھلکے وغیرہ نیچے بچھانے کے لئے دیتے رہے ہیں دوست ان پر بھی خوشی خوشی گزارہ کر لیتے تھے لیکن اب چونکہ ہمارے قرب و جوار میں چاول پیدا ہونے لگ گیا ہے اس لئے پر الی نسبتا آسانی سے دستیاب ہو جاتی ہے چنانچہ ہمارا ایک لکھ پتی دوست بھی یہ کہتا ہے کہ مجھے پرالی دے دو، وہ یہ بھی نہیں کہتا کہ مجھے مکان دو اور نہ یہ کہتا ہے مجھے بڑا کمرہ دو۔وہ تو یہ کہتا ہے کہ مجھے سر چھپانے کے لئے کوئی چھوٹا سا کمرہ دے دو جس میں ہم خاندان کے آٹھ دس افرادزمین پر لیٹ کر گزارہ کر لیں گے۔پس ہمارے جلسہ سالانہ کے مہمانوں کا یہ مطالبہ نہ صرف یہ کہ معقول ترین ہے بلکہ اس سے کم کا مطالبہ ہو ہی نہیں سکتا اور اس سے زیادہ ہم ان کو دے بھی نہیں سکتے وہ تھوڑے پر خوش ہیں اور ہم زیادہ نہ دینے پر مجبور ہیں۔وہ خوش ہیں کہ گزارہ کے لئے رہائش مل گئی اور ہم مجبور ہیں کہ ہم ان کو زیادہ جگہ نہیں دے سکتے۔لیکن جتنا آرام ملنا چاہیے وہ تو ضرور ملنا چاہیے۔اس سردی میں ہم ان کو یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ باہر ٹھہر وہ ممکن ہے بعض صحت مند نوجوان ایک کمبل کی بجائے دو کمبل اوڑھ کر باہر بھی ٹھہر جائیں آخر فوجوں کو بھی تو اسی طرح باہر ٹھہر نے کی مشق کرائی جاتی ہے لیکن ہر عمر اور صحت کے مرد، عورتیں اور بچے تو باہر نہیں ٹھہر سکتے۔پس اگر ہم سٹیڈیم کی طرز کی جلسہ گاہ بنائیں گے تو اس سے کسی حد تک یہ ضرورت بھی پوری ہو جائے گی اس لئے جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ جب جامعہ احمدیہ کے ہوسٹل کا کچھ حصہ بن رہا تھا اور کچھ حصہ ابھی نہیں بن رہا تھا تو میں نے پرنسپل صاحب جامعہ احمدیہ سے کہا تھا کہ جو حصہ نہیں بن رہا اس کو بھی بنا دو۔اس وقت اگر چہ وہ بھی کہتے تھے کہ ہمیں بھی دوسرے Wing ( ونگ)