خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 601
خطبات ناصر جلد چہارم ۶۰۱ خطبه جمعه ۲۲ /دسمبر ۱۹۷۲ء کی بڑی ضرورت ہے لیکن میرے دل میں ان کی ضرورت کا اتنا احساس پیدا نہیں ہوا جتنا میرے دل میں اپنے جلسہ سالانہ کے مہمانوں کی ضرورت کا احساس پیدا ہوا۔چنانچہ میں نے پرنسپل صاحب سے کہا کہ ہم آپ کو پچاس ساٹھ ہزار روپیہ اور دے دیتے ہیں۔آپ دوسرے حصہ کو بھی جلسہ سالانہ سے پہلے پہلے بنوالیں، چنانچہ وہ بھی مکمل ہو گیا ہے اب تیسر اونگ بھی انشاء اللہ جلد مکمل ہو جائے گا اسی طرح گو ہماری اور کئی عمارتیں بنتی رہتی ہیں۔لیکن ضرورت چونکہ بہت زیادہ ہے اس لئے ناکافی ہوتی ہیں۔اس واسطے اگر ہم سٹیڈیم کی طرز کی جلسہ گاہ بنائیں گے تو اس میں ہماری یہ ضرورت بھی کسی حد تک پوری ہو جائے گی۔پھر عام سٹیڈیم کی جوشکل ہوتی ہے اور جس کے متعلق میں چند ہفتوں سے غور کر رہا ہوں، وہ بھی ہماری ضرورت کو کماحقہ پورا نہیں کرتی۔اس واسطے کہ جو عام سٹیڈیم ہوتے ہیں اگر اس کے اندر کرکٹ کا میچ ہوتا تو ہر شخص کی نگاہ کا مرکز وہ ساری گراؤنڈ ہے جس میں کرکٹ کھیلا جا رہا ہے اس واسطے وہ تو ایک خاص شکل ہے۔اس میں وہ گراؤنڈ ہر ایک کو نظر آ رہی ہوتی ہے لیکن جلسہ گاہ کا مرکز نگاہ مقرر ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ دو تین فٹ کا ایک نقطہ ہے۔وہ تین فٹ جمع تین سوفٹ یا چار سوفٹ جمع آٹھ سوفٹ کا نقطہ نہیں ہے بلکہ وہ تو بالکل چھوٹی سی جگہ ہے اس واسطے ہمیں اپنے اس سٹیڈیم (جو عام سٹیڈیم کا بھی کام دے گا کیونکہ سارا سال ہم نے اس سے فائدہ بھی اٹھانا ہے) کے بنانے کی اصل غرض ( جلسہ گاہ کے طور پر استعمال کرنے کی ) ہے۔اس کے مطابق نقشہ بننا چاہیے اور پھر وہ زمین ہوگی وہاں کھیلیں بھی ہوں گی وہاں باہر سے بھی جو ٹیمیں آتی ہیں یعنی غیر ممالک سے ہم ان کو بھی یہاں بلا سکیں گے۔ہم نے کسی نہ کسی بہانے دوسرے لوگوں کو مرکز سلسلہ میں کھینچ کر لانا ہے تا کہ وہ یہاں آکر دیکھیں۔بہت سے دوست آتے رہتے ہیں یہ نہیں کہ وہ آتے ہی احمدی ہو جاتے ہیں لیکن وہ کسی نہ کسی رنگ میں اثر ضرور لیتے ہیں ہماری ترقی کا راز اور ہماری کامیابی کا انحصار تو اللہ تعالیٰ کے فضل پر ہے۔لیکن میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگ جو بالکل دہر یہ ہیں یعنی خدا کو نہیں مانتے جب انہوں نے یہاں آکر کچھ دیکھا تو اگر چہ وہ اس چیز کو پہچان نہیں سکے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا مرہونِ منت ہے۔کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی پر یقین نہیں رکھتے لیکن جب انہوں نے یہاں آکر دیکھا تو ان