خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 599
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۹۹ خطبہ جمعہ ۲۲؍دسمبر ۱۹۷۲ء دواٹر ہائی لاکھ تک پہنچ جائے گی شاید زیادہ سے زیادہ دس سال تک جائیں لیکن میں امید رکھتا ہوں کہ پانچ سال میں ایک اتنی بڑی جلسہ گاہ کی ضرورت پیدا ہو جائے گی۔جس میں دواڑھائی لاکھ سامعین بیٹھ سکیں۔اس سٹیڈیم کی تعمیر کے ساتھ ہماری ایک اور ضرورت بھی پوری ہو جائے گی۔میں کل قیام گاہوں کا نقشہ دیکھ رہا تھا جسے دیکھ کر میں بڑا پریشان ہوا کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ ایسی جماعتیں بہت بڑی تعداد میں جلسہ سالانہ میں شامل ہوتی ہیں جو ا کٹھی ٹھہرتی ہیں ان کے ٹھہرانے کے لئے مہمانوں کی نسبت ہمارے پاس جو عمارتیں ہیں وہ بہت تھوڑی اور چھوٹی رہ گئی ہیں۔اسی طرح مستورات کی قیام گاہیں بھی ایک تو تھوڑی ہو گئی ہیں اور دوسرے چھوٹی ہوگئی ہیں اگر سٹیڈیم کی طرز پر جلسہ گاہ بنا ئیں تو اس میں ہمیں رہائش کے لئے شاید اس سے زیادہ مسقف حصہ مل جائے جتنا اس وقت جماعت کی عمارتوں میں میسر آتا ہے۔بلکہ میں سمجھتا ہوں اس سے دگنی مکانیت میسر آ جائے گی کیونکہ ایک بہت بڑے سٹیڈیم میں رہائش کی بھی گنجائش نکل سکتی ہے۔پس سٹیڈیم نما جلسہ گاہ کی اس وقت بڑی ضرورت ہے دس دن پہلے کی بات ہے مجھے یہ اطلاع دی گئی کہ سارے ربوہ کے کئی ہزار مکانوں میں سے صرف تیں مکانوں میں افسر جلسہ سالانہ کو مہمانوں کے ٹھہرانے کے لئے کوئی جگہ ملی ہے جگہ اس لئے تھوڑی ملی ہے کہ ہر دوست کے گھر میں اس کے اپنے مہمان آ رہے ہیں۔اس صورت میں وہ افسر جلسہ سالانہ کے ساتھ کیا تعاون کرے گا۔کل ہی میری ایک ہمشیرہ نے مجھے بتایا کہ میں اپنی چھوٹی چند ماہ کی نواسی کو لے کر اس سردی کے موسم میں خیمہ میں جا رہی ہوں اس لئے کہ مہمان اتنے آرہے ہیں کہ میرے لئے کوئی کمرہ بچتا ہی نہیں۔اب جس مکان میں صاحب خانہ کے لئے کوئی کمرہ نہیں بچا ظاہر ہے اس مکان سے افسر صاحب جلسہ سالانہ کو تو کوئی کمرہ نہیں مل سکتا۔پس رہائش کی ضرورت روز بروز بڑھ رہی ہے ہمارا وہ عارضی انتظام جس کے ماتحت بعض دوست اپنے گھروں کے کمرے جلسہ سالانہ کی انتظامیہ کو دے دیا کرتے تھے وہ انتظام کمزور ہو رہا ہے تاہم وہ انتظام اس لئے کمزور نہیں ہو رہا کہ اہل ربوہ کے اخلاص میں کمی آگئی ہے بلکہ اس