خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 572
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۷۲ خطبه جمعه ۸ /دسمبر ۱۹۷۲ بازار میں چلا جاتا ہے اور اس کے عوض نقد پیسے مل جاتے ہیں آپ چونکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مزدور بن گئے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کے اموال میں بڑی برکت رکھی ہے۔میری دعا ہے اللہ تعالیٰ آپ کے اموال اور آپ کی فصلوں اور تجارتوں میں اور بھی زیادہ برکت ڈالے۔اللہ تعالیٰ کی برکت کو جذب کرنے والی جو آپ کی کوشش اور سعی ہے اس میں کمی نہیں آنی چاہیے آپ خدا تعالیٰ کی راہ میں جتنی زیادہ قربانی دیں گے اتنا ہی زیادہ وہ آپ کو دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی کا قرض نہیں رکھتا اس لئے تمام زمیندارہ جماعتیں خریف کی فصلوں کی آمد سے اپنے لازمی چندوں کا کم از کم ۲/۳ حصہ ادا کریں یہ کوئی ایسی بات نہیں جس سے دفتر والے گھبراتے پھریں دوستوں کو تو جہ دلانے کی ضرورت تھی میں نے ان کو توجہ دلا دی ہے اب یہ دفتر والوں کا کام ہے کہ وہ دوستوں تک ان کے گاؤں میں پہنچ کر تو جہ دلائیں کچھ دوست تو یہاں ہر جمعہ میں آئے ہوتے ہیں لیکن اکثریت تو اپنے اپنے گاؤں میں آباد ہے اس سلسلہ میں ہمارے مربی صاحبان وقف عارضی پر جانے والے دوستوں ہمارے اخبار اور عہد یداروں کو چاہیے کہ وہ جماعتوں کو توجہ دلائیں کہ ان پندرہ ہیں دنوں کے اندراندر اپنے چندے کا ۳/ ۲ حصہ مرکز میں بھجوا د میں یہ رقم انہوں نے کما کر تو نہیں دینی یہ تو زمین کی اس پیداوار سے ادا کرنی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی برکتوں کے ساتھ ان کو عطا فرمائی ہے جس کے کچھ حصے بک گئے اور کچھ آج کل بک رہے ہیں پس ہمارے زمیندار دوست اپنی ذمہ داریوں کو اخلاص کے ساتھ اور بشاشت کے ساتھ ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی ربیع کی فصل میں انشاء اللہ برکت ڈال دے گا میں نے اللہ تعالیٰ کی ان برکتوں کے خود نظارے دیکھے ہیں اس لئے میں تمام دوستوں سے عموماً اور زمیندار جماعتوں سے خصوصاً ایک بار پھر یہ کہتا ہوں کہ ہمارے بجٹ کا ۳/ ۲ حصہ اس ماہ کے ختم ہونے سے پہلے پہلے مرکز میں پہنچ جانا چاہیے۔اگر کوئی ایسی جماعت ہو جو نصرت جہاں ریز روفنڈ کا وعدہ اور لازمی چندہ اس ماہ میں ادا نہ کر سکتی ہو تو اس کا فرض ہے کہ وہ اس ماہ میں پہلے لازمی چندوں کو ادا کرے اور نصرت جہاں ریزروفنڈ کے بقیہ وعدوں کو جنوری یا فروری یا اگلی فصل کے نکلنے پر ڈال دے لیکن لازمی چندوں کا ۲/۳ حصہ اس ماہ کے آخر تک ادا کرنے کی کوشش کریں اللہ تعالیٰ آپ کے