خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 36 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 36

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۶ خطبه جمعه ۴ فروری ۱۹۷۲ء ہے مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ يه ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيوة الثا نیا ہی ہے پس اگر تم محض دنیا کے لئے اپنی جسمانی اور ذہنی طاقتوں کی نشو ونما کو انتہا تک پہنچانے کے لئے محنت کرو گے تو دنیا تمہیں مل جائے گی۔لیکن مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ کی رو سے اس عارضی چند روزہ اور بے وفا دنیا کے بعد تمہیں کچھ نہیں ملے گا لیکن ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا کی رُو سے اس عارضی چند روزہ اور بے وفا دنیا کے بعد تمہیں کچھ نہیں ملے گا لیکن وَمَنْ اَرَادَ الْأَخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ کی رو سے جو شخص اس دنیا کی بعد کی زندگی کے لئے بھی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس دنیا کے انعامات کے علاوہ اخروی زندگی کی نعمتوں سے بھی اسے نوازتا ہے۔در اصل قرآن کریم میں جہاں بھی اس ضمن میں یعنی اس Context (کن ٹیکسٹ) میں سعی “ کا لفظ آئے گا اس کا مطلب یہی ہو گا کہ جو شخص اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور ان کی نشوونما کو کمال تک پہنچانے کے لئے محنت کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے انسان کو چار قسم کی بنیادی صلاحیتیں عطا کر کے فرمایا ہے کہ اگر تم اس دنیا کے انعامات اور اُخروی زندگی کے انعامات کے حصول کیلئے جو را ہیں مقرر کی گئی ہیں ان پر چل کر انتہائی کوشش کرو گے تو اس دنیا میں بھی تم اللہ تعالیٰ کے بہترین انعاموں کے وارث بنو گے اور اُخروی زندگی میں بھی اس کے بہترین انعاموں کے وارث بنو گے۔مگر یہ سب کچھ تم اپنے اپنے دائره استعداد کے اندر رہ کر حاصل کرو گے کیونکہ اپنے دائرہ استعداد سے آگے تو کوئی شخص نہیں بڑھ سکتا نہ اس دُنیا میں اور نہ اُخروی زندگی میں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔كُلَّ يَوْمٍ هُوَ في شَانِ (الرحمن: ٣٠) اس کا ایک نظارہ ہمیں یہاں بھی نظر آتا ہے۔بہر حال اپنے دائرہ استعداد اور دائرہ صلاحیت کے اندر ہر شخص اور (پھر ان کا مجموعہ جس کا نام قوم رکھتے ہیں ) ہر قوم اس دُنیا میں آگے سے آگے نکلتی چلی جائے گی اور اس طرح انسان بحیثیت انسان دوحصوں میں منقسم ہو جائے گا۔ایک وہ انسان جس کا آدھا دھڑ مارا ہوا ہے یعنی اس کے وجود کا دُنیوی حصہ ہے اس میں تو زندگی کے آثار ہیں لیکن اس کے وجود کے اخلاقی اور روحانی حصوں میں ہمیں ایک بے حسی نظر آتی ہے یا جان نظر