خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 37 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 37

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۷ خطبه جمعه ۴ فروری ۱۹۷۲ء نہیں آتی اور دوسرا وہ جس کے دونوں حصوں میں جان نظر آتی ہے اور یہ وہ مسلمان ہے جس کی چاروں بنیادی قوتوں کی ارتقاء نہ صرف اس دُنیا تک محدود ہے اور نہ صرف اس دُنیا میں بندھی ہوئی یا محصور ہے بلکہ ایک مسلمان کی قوتوں کی ارتقاء کا تعلق ، ان کی نشو ونما کا تعلق اور پھر اس کے نتیجہ میں اس کا اللہ تعالیٰ کے انعاموں کے وارث ہونے کا جو تعلق ہے وہ اس دُنیا کے ساتھ بھی ہے اور اُس دُنیا کے ساتھ بھی ہے چنانچہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے آپ کی قوتِ قدسیہ اور تربیت کا ملہ کے نتیجہ میں اپنی قوتوں اور صلاحیتوں کی نشو و نما کو ان کے کمال تک پہنچایا تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس مادی دنیا کی سب دولتیں ان کے قدموں پر لا ڈالی گئیں اور انہوں نے اخروی زندگی کے مزے اس دنیا میں لینے شروع کر دیئے کیونکہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ یہ بشارت دیتا ہے کہ میں تجھ سے خوش ہوں میں تجھ سے راضی ہوں تو گویا اس نے اس دنیا میں اخروی زندگی کے مزے لے لئے اسے اور کیا چاہیے؟ اصل چیز تو اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی ہے باقی سب کچھ اسی رضا اور خوشنودی کی تفصیل ہے۔اس لئے جس شخص کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کا پیار مل جائے ، اسے اور کیا چاہیے۔جیسا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ اپنا پیار دیتا ہے اور اتنا دیتا ہے اور اس طرح دیتا ہے کہ ہماری عقل اس کا احاطہ نہیں کر سکتی۔غرض اللہ تعالیٰ اپنا پیار تو دے گا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں اس لذت اور اس سرور کا نچوڑ اس طرح دے دیا کہ فرمایا۔میں تم سے خوش ہوں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ میں تیرے صحابہ سے خوش ہوں۔آپ نے ان کو بشارتیں دے دیں اور اس گروہ کے ایک حصہ کا نام مبشرہ رکھا گیا۔مختلف موقعوں پر مختلف معنوں میں ان کو مبشرہ کہا گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ان کو یہ بشارت دی گئی تھی اگر خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ یہ بشارت نہ ملتی تو کوئی کہ سکتا تھا پتہ نہیں یہ نفس ہی کا خیال نہ ہو یا دھوکا نہ ہو یا خود ان کے نفس کہتے کہ پتہ نہیں نفس کی کمزوری کے نتیجہ میں کہیں یہ شیطانی وسوسہ نہ ہو اور شیطان ان کے دل میں کبر اور غرور پیدا نہ کرنا چاہتا ہو۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر کامل یقین رکھنے والے اور آپ کی باتوں کو خدا تعالیٰ کی وحی یا اس کی تفسیر