خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 35 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 35

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۵ خطبه جمعه ۴ فروری ۱۹۷۲ء والوں سے آگے نکل گئی ہے۔ان کی جسمانی اور ان کی ذہنی قوتوں کی نشو و نما ایک مسلمان سے بہتر تھی تبھی تو وہ اس دنیا میں ترقی کر گئے لیکن خدا تعالیٰ نے ان غیر مسلموں کو دھتکارا اور فرمایا۔پرے ہٹ جاؤ میرے سامنے سے کیونکہ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنیا میں یہی خسران کے معنے ہیں یعنی ان کی کوشش اور ان کی جدو جہد اور ان کی محنت اپنی قوتوں اور صلاحیتوں کی نشوونما کے لحاظ سے ادھوری تھی۔انہوں نے دو قسم کی نشو ونما کی اور دوسری دو کو چھوڑ دیا۔دنیا کے متعلق ان کی کوششیں تھیں مگر اخلاقی اور روحانی قوتوں کا فقدان تھا حالانکہ دنیا میں جب تک اخلاقی حسن نظرنہ آئے اس وقت تک انسانیت میں حسن نظر نہیں آ سکتا۔جسمانی اور ذہنی قوتوں کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور روحانی استعدادوں کی بھی نشو و نما ہونی چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس طرف ارشاد فرمایا ہے۔آپ نے فرمایا ہے کہ مذہب کے بغیر صحیح اخلاق پیدا ہو ہی نہیں سکتے۔جن لوگوں نے مذہب کو چھوڑ دیا اور جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کو یہ فرمانا پڑا کہ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وہ مفلوج ہیں۔وہ خسران میں ہیں وہ ہلاکت اور ضلالت میں پڑے ہوئے ہیں۔پس ان آیات میں علاوہ اور بہت سی باتوں کے یہ بھی بتلایا گیا تھا کہ اگر ساری طاقتوں کی کمال نشوونما کے لئے تمہاری طرف سے انتہائی جدو جہد نہیں ہوگی تو تم گھاٹے میں رہو گے یا اگر تم نے دو قسم کی قوتوں کی نشوونما پر زور دیا اور دوسری دو بالکل بھول گئے تو یہ بات تمہارے لئے اور بھی زیادہ نقصان اور ہلاکت کا موجب ہوگی لیکن اگر تم نے اپنی قوتوں کی صحیح اور انتہائی نشوونما کے لئے آخری کوشش نہ کی تو پھر بھی تم گھاٹے میں رہو گے جس حد تک تمہاری کوشش میں کمی ہوگی ، اسی حد تک تمہارا نقصان بھی ہوگا۔غرض خدا تعالیٰ تمہیں بہت کچھ دینا چاہتا ہے۔اللہ تعالیٰ تمہیں اس حد تک دینا چاہتا ہے جس حد تک اس نے تمہارے اندر لینے کی قوت اور طاقت پیدا کی ہے۔اگر تم اس سے لینے کی طاقت کو انتہا تک نہ پہنچاؤ گے تو وہ تمہیں کچھ نہیں دے گا اس لئے کہ تم نے اس سے لینے کا خود کو اہل ہی نہیں بنایا۔اگر تم محض دنیا کے لئے کوشش کرو گے تو دنیا تمہیں مل جائے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا