خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 456
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۵۶ خطبه جمعه ۶ را کتوبر ۱۹۷۲ء میرے خدا! تیری سخاوت کی کوئی انتہا نہیں مگر میرا دامن تو بہر حال محدود ہے۔اب تو مجھے اور دیتا چلا جاتا ہے۔یہ تو میری طاقت سے بڑھ کر ہے۔میں اسے کس طرح سنبھالوں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک حدیث میں بھی کہا گیا ہے کہ جب مسیح آئے گا تو خدا تعالیٰ کی رحمتوں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض کے خزانے اس رنگ میں لٹائے گا اور اتنے لٹائے گا کہ دنیا ان کو لینے سے انکار کر دے گی اس کا ایک مطلب ہم یہ بھی لیا کرتے ہیں کہ جو لوگ ان خزانوں کو خزانے نہیں سمجھیں گے ان کی طرف رغبت نہیں رکھیں گے وہ لینے سے انکار کر دیں گے تاہم اس کا اصل اور حسین مطلب یہی ہے کہ ہر ایک مخلص انسان کو اعلیٰ استعداد اور طاقت کے مطابق دے دیا جائے گا یہاں تک کہ وہ زبانِ حال سے پکار اٹھے گا کہ بس ! بس !! اب زیادہ لینے کی مجھ میں طاقت نہیں۔اس پر بھی خدا تعالیٰ نے انسان پر اپنی رحمتوں کا دروازہ بند نہیں کیا بلکہ موہبت الہیہ کا ایک چکر چل پڑتا ہے۔انسان کے روحانی درخت وجود پر پھول آئے پھل لگے خدا تعالیٰ کی جنتوں میں وہ داخل ہو گیا۔روحانی فضلوں سے لذت اٹھانے لگ گیا لیکن چونکہ خدا نے اس کے دل کے اندر یہ تڑپ یا یہ خواہش اور یہ جذبہ پیدا کیا اور فرمایا کہ اس پر راضی نہ ہونا کیونکہ میرے خزانے غیر محدود ہیں چنانچہ بعض دفعہ انسان کہتا ہے خدایا! اس درخت کو تو پانچ من پھل لگے ہیں یہ تیری رحمت سے لگے ہیں تو اس درخت کو اتنی طاقت فرما کہ یہ دس من پھل اٹھانے کے قابل ہو جائے۔پھر اس کی دعاؤں کے نتیجہ میں وہی درخت دس من پھل دینے لگ جاتا ہے پھر سینکڑوں ہزاروں من پھل دینے لگ جاتا ہے۔پس حقیقی جنت جس میں انسان داخل ہوتا ہے وہ تو ختم ہونے والی نہیں ہے اور نہ خدا تعالیٰ کے قرب کے مقامات ختم ہونے والے ہیں۔اس میں تو ترقی ہی ترقی ہے۔اس میں بھی عمل تو ہے لیکن یہ وہ عمل نہیں جس کا تعلق امتحان سے ہوتا ہے۔جس کا تعلق جزاء وسزا سے ہوتا ہے۔جنتوں میں داخل ہونے کی بعد انسان بے عمل نہیں ہو جاتا تاہم امتحان کا خوف اور امتحان میں فیل ہو جانے کا ڈر ختم ہو جاتا ہے۔حقیقی جنت میں انسان کو نا کامی کا کوئی ڈر نہیں ہوتا لیکن جس طرح ایم۔اے یا پی۔ایچ۔ڈی کرنے کے بعد کوئی عقل مند یہ نہیں سمجھتا کہ اس کے تعلم کا زمانہ ختم