خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 457
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۵۷ خطبه جمعه ۶ اکتوبر ۱۹۷۲ء ہو گیا۔اسی طرح حقیقی جنت میں انسان کے دل میں یہ احساس زیادہ بیدار ہو جاتا ہے کہ علم کے حصول کا اصل موقع تو اب پیدا ہوا ہے۔چنانچہ جس طرح انسان ایم۔اے یا پی۔ایچ۔ڈی کے بعد اپنے طور پر مطالعہ کرتا ہے عملی زندگی میں انسان جو کچھ حاصل کرتا ہے۔علم کے ذریعے اس کے تجربے کرتا ہے اور غور و فکر کرتا ہے ( یہی علم و عمل کا جوڑ ہے جس کے متعلق کل میں نے اجتماع میں خدام کو سمجھانے کی کوشش کی تھی ) اسی طرح جنت میں اللہ تعالیٰ کی موہبت ختم ہونے میں نہیں آتی۔اللہ تعالیٰ انسان کو فضلوں اور رحمتوں سے نوازتا چلا جائے گا۔پس رمضان اپنی تمام برکتوں اور رحمتوں کے ساتھ آ رہا ہے۔میں نے اس وقت رمضان کی چار پانچ برکتوں کا ذکر کیا ہے یعنی چار برکتیں تو وہ ہیں جو انسان اپنی کوشش اور اپنے عمل سے، اپنے ایمان کے درخت کو نشوونما دے کر، اس کی پرورش کر کے اسے ایک بڑا شاندارحسین شاخوں سبز پتوں والا درخت بنا کر حاصل کرتا ہے اور پانچویں وہ برکت ہے کہ جب وہ درخت ثمر آور ہونے کے قابل ہو جاتا ہے۔تو اس وقت انسان دعاؤں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرتا ہے اس طرح وہ اسے پھولوں کا گہنا پہناتا اور پھلوں سے لا ددیتا، اس کی افادیت کے ہر پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔گو پانچویں برکت کا تعلق انسان کی دعا اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی موہبت کے ساتھ ہے۔جب انسان کو یہ موہبتِ الہیہ نصیب ہوتی ہے تو پھر اس کے بعد روحانی درخت اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور پناہ میں ہوتا ہے اور وہ انسان کے لئے ابدی جنت اور ابدی سرور کا ذریعہ بن جاتا ہے۔پس میں اپنی جماعت کے تمام مردوں اور عورتوں ، جوانوں اور بوڑھوں سے کہتا ہوں کہ تم اپنے درخت وجود یعنی ایمان کے درختوں کی نشو و نما کے جو بھی سامان اور ذرائع ماہِ رمضان میں دیکھو ان سے فائدہ اٹھانے کی ہر ممکن کوشش کرو تا اللہ تعالیٰ کے فضل سے تم بھی خدا تعالیٰ کی رضا کی جنتوں میں داخل ہو جاؤ۔اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو اس کی تو فیق عطا فرمائے۔آمین روزنامه الفضل ربوه ۵ /نومبر ۱۹۷۲ء صفحه ۱ تا ۴)