خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 322
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۲۲ خطبہ جمعہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۷۲ء بڑے ادب کے ساتھ اس کو یہ کہنا چاہیے کہ آپ یہ کیا حرکت کر رہے ہیں۔اس سلسلہ میں بدتمیزی نہیں کرنی چاہیے۔کیونکہ اس طرح انسان کے نفس پر ایک دھبہ لگ جاتا ہے اور یہ جماعت احمد یہ کے اجتماعی عرفان ذات باری کے خلاف ہے، ایک انفرادی عرفان ہوتا ہے اور ایک اجتماعی۔اجتماعی عرفان کا مطلب یہ ہے کہ زید اور بکر کا عرفان خالد اور عمر سے مثلاً بیس گنا زیادہ ہے وہ اپنے اجتماعی واقعات بتاتے ہیں۔دوسروں کا مشاہدہ نہیں ہوتا۔لیکن سماع ہوتا ہے۔اس سے بھی ایمان میں تازگی اور مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔اب یہ جو جماعت احمدیہ کا اجتماعی عرفان ہے اس کے مقابلہ میں ہمارا یہ عزم ہونا چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے جو جہاد کا حکم دیا ہے اس کے مطابق خدا کی راہ میں اس کی خوشنودی اور رضا کے حصول کے لئے اپنی کوششوں کو انتہا تک پہنچانا ہے۔اب اگر کوئی کام اس کے خلاف ہوتا ہے تو یہ جماعت کی بدنامی کا باعث ہے۔میں تو پچھلے مہینے کڑھتا رہا ہوں کہ ہماری ایک نظارت نے ہمارے اوپر ایک دھبہ لگا دیا ہے۔اس قسم کی حرکتیں تو نہیں چلنی چاہئیں۔وہ سمجھتے ہیں ہم آرام سے بیٹھے ہیں مگر ہم انہیں آرام سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔نہ میں انہیں بیٹھنے دوں گا اور نہ آپ ان کو بیٹھنے دیں۔دوستوں کو چاہیے کہ اگر کہیں کوئی غلطی دیکھیں تو ذمہ وار آدمی کو جا کر پکڑیں۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ اسے کان سے جا پکڑیں اور ادب و احترام کے ساتھ چار پانچ آدمی جا کر کہیں کہ سڑک کو اس وقت تک مکمل ہو جانا چاہیے تھا۔مگر ابھی تک کیوں تیار نہیں ہوئی ؟ میں نے ایبٹ آباد جانے سے پہلے اپنے دفتر سے کہا کہ ناظر امور عامہ کو روزانہ ایک خط لکھتے رہو کہ سڑک کیوں بنی شروع نہیں ہوئی ؟ انہوں نے بچنے کے لئے جواب لکھنے کی بجائے مجھے سے ملاقات کے دوران کہا کہ دراصل یہ وجہ ہوگئی ہے اور وہ وجہ ہوگئی ہے اس لئے کام شروع نہیں ہو سکا۔یہ سب بچنے کے لئے جھوٹے بہانے تھے۔پرائیویٹ سیکرٹری صاحب پاس کھڑے تھے۔میں نے ان سے کہا کہ ان کی اس Explanation کون کر خطوط بند نہیں ہوں گے اس لئے آپ ان کو خط لکھتے رہیں جب تک یہ کام شروع نہ کر لیں۔اب یہ تو نہیں کہ ان پر کوئی سختی کی گئی۔صرف روزانہ یاد دہانی کروائی جاتی رہی۔اسی طرح اگر چار پانچ آدمی روزانہ جا کر