خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 323 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 323

خطبات ناصر جلد چہارم خطبہ جمعہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۷۲ء بڑے پیار سے ناظر صاحب امور عامہ سے یہ کہتے کہ جناب آپ کو خدا تعالیٰ نے سلسلہ کے بڑے اہم کام کرنے کی توفیق دی ہے۔ہم آپ کو ذَكِّرْ فَإِنَّ الذكرى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ - (الدريت : ۵۶) کی رُو سے یاددہانی کرانے آئے ہیں۔جو کام آپ کروا ر ہے ہیں اس کی رفتار بڑی سست ہے اس کے اندر چستی پیدا ہونی چاہیے۔یہ یاد دہانی کرانے کا نسخہ میں تو بڑی دیر سے استعمال کر رہا ہوں۔قادیان کے زمانہ کی بات ہے۔خدام الاحمدیہ کی بیرونی مجالس جو ماہانہ رپورٹیں نہیں بھجواتی تھیں ان میں سے مثلاً پچاس کو میں نے چن لیا اور دفتر سے کہا پہلے ہر پندرہ دن کے بعد یاددہانی کراؤ اس پر بھی کوئی نتیجہ نہ نکلے تو ہر ہفتہ کے بعد، پھر ہفتہ میں دو دفعہ یاد دہانیاں کراؤ۔اگر اس پر بھی ان کو ہوش نہ آئے تو پھر روزانہ یاد دہانی کراؤ اور یہ سلسلہ جاری رہے جب تک ان کو ہوش نہ آ جائے۔میں نے دیکھا کہ کئی قائدین میرے پاس آ کر رو پڑے کہ خدا کیلئے ہمیں لکھنا بند کر دیں۔ہم آئندہ ستی نہیں کریں گے۔کسی جگہ جب متواتر خطوط جاتے ہیں تو اصلی بات چھپی نہیں رہ سکتی۔وہاں کے سب لوگ اصل حقیقت کو پا جاتے ہیں۔پس ذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِینَ کی رو سے یاد دہانی کرانا کسی فرد واحد ہی کے لئے نفع مند نہیں ہے بلکہ یہ جماعت مومنین کے لئے بھی نفع مند چیز ہے اس سے ہر کام میں چستی پیدا ہو جاتی ہے۔بہر حال ہم احمدی مسلمان ہیں۔ہم اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کی معرفت رکھتے اور جانتے ہیں کہ مجاہدہ (جہاد اور مجاہدہ ایک ہی مصدر سے نکلے ہیں ) کی جو تعلیم دی گئی ہے اور جسے محسن فی العمل کہہ کر اور مضبوط کر دیا گیا ہے۔یہ انتہائی محنت اور علم و عمل کے اعتبار سے حسن و احسان کا لطیف امتزاج ہمارا معیار ہے۔اس سے ہم نے پیچھے نہیں ہٹنا۔ہم نے دُنیا کے لئے ایک نمونہ بننا ہے۔خصوصا اس دُنیا کے لئے جو ترقی پذیر تو ہے مگر جوں کی چال چل رہی ہے۔میں نے چینی معاشرہ کے متعلق بڑا غور کیا ہے روحانیت کا تو خانہ خالی ہے اس کو چھوڑ دیں