خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 321 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 321

خطبات ناصر جلد چہارم خطبہ جمعہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۷۲ء اس وقت دنیا کے ترقی پذیر ملک یعنی جو آہستہ آہستہ ترقی کی طرف جا رہے ہیں اُن میں ایک بنیادی خامی یہ نظر آتی ہے کہ وہ کام شروع تو کر دیتے ہیں لیکن اسے انتہا تک نہیں پہنچاتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں سے بعض کی ۴۰ فیصد محنت ضائع ہو جاتی ہے۔بعض کی ۸۰ فیصد محنت ضائع ہو جاتی ہے بعض کی ۹۰ فیصد محنت ضائع ہو جاتی ہے۔یہاں تک کہ بعض ملک تو ایسے بھی ہیں جن کی ۹۹ فیصد محنت ضائع ہو جاتی ہے۔آپ باہر نکلا کریں اور دیکھا کریں کہ کس طرح محنت رائیگاں جاتی ہے۔مثلا ایک سٹرک اسلام آباد سے بنی شروع ہوئی اس کا دوسرا حصہ خانپور سے بننا شروع ہو گیا دونوں طرف چند میل تک سڑک بنی مگر بیچ کے کئی میل ویسے ہی پڑے ہوئے ہیں۔کہتے ہیں ہم نے یہ منصوبہ بدل دیا ہے۔بھلا تمہیں کس احمق نے کہا تھا کہ تم یہ منصوبہ بناؤ اور خواه خواہ قوم کے پیسے ضائع کرو۔یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے ورنہ ہر کام میں کم و بیش یہی نظر آتا ہے کہ کام شروع کر دیتے ہیں مگر انتہا تک نہیں پہنچاتے۔اس کی دوصورتیں بنتی ہیں ایک یہ کہ کلی ناکامی دوسرے یہ کہ وقتی ناکامی ہوتی ہے۔ہر دوصورتوں میں محنت اپنی انتہا کو نہیں پہنچتی۔وقتی ناکامی سے میری مراد یہ ہے کہ جو کام دس دن میں ہو سکتا تھا اُسے مکمل کرنے میں چار مہینے لگا دیتے ہیں۔دور جانے کی ضرورت نہیں ہمارے ناظر صاحب امور عامہ اور ٹھیکیدار صاحب جنہوں نے ربوہ کی سڑکیں بنانی شروع کی ہیں دونوں اس بات کے ذمہ وار ہیں کہ جتنے وقت کے اندر یہ بنی چاہیے تھیں اس میں نہیں بن سکیں۔کبھی یہ بہانہ ہے کہ لگ گرم کرنے میں ایندھن زیادہ خرچ ہوتا ہے۔اگر بعد میں تم نے یہ سوچنا تھا تو پہلے ٹھیکہ ہی کیوں لیا تھا۔پھر یہ کہہ دیا کہ اب اتنی گرمی ہے ٹھیک طرح سے کام نہیں ہو سکتا۔حالانکہ ربوہ کا موسم تو بڑی جلد بدلتا رہتا ہے۔آج سردی ہے تو کل گرمی ہو جاتی ہے اور کو لگنے لگ جاتی ہے۔غرض کبھی کوئی بہانہ کر دیا جاتا ہے اور کبھی کوئی عذر پیش کر دیا جاتا ہے۔یہ طریق کار نہ جہاد کے معنوں میں شامل ہے اور نہ عَمَلًا حَسَنًا کے معنے میں شامل ہے۔ہمیں دُنیا کے لئے ایک مثال بنا چاہیے مگر اس میں ہمارا ایک اپنا ادارہ ملوث ہے۔ایسی صورت میں دوستوں کو ٹوکنا چاہیے کیونکہ کسی ناظر کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ غلطی کرے اور پھر بھی اسے کچھ نہ کہا جائے۔جو عوام سے تعلق رکھنے والی باتیں ہیں اُن میں اگر کوئی ناظر غلطی کرتا ہے تو