خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 227
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۲۷ خطبہ جمعہ ۱۹ رمئی ۱۹۷۲ء غرض یہ محنت ہی ہے جس کے نتیجہ میں دنیوی حسنات اور نعمتیں ملتی ہیں۔مثلاً اگر دولت نہ ہو گی تو مالی قربانی نہیں ہوگی اگر علم اور فراست نہیں ہوگی تو دوسروں کو علم سکھانا اور عقل کی باتیں بتانا ممکن نہیں ہو گا۔اگر اخلاقی قوتوں کی صحیح نشو ونما نہیں ہوگی یا اخلاقی قوتوں کی صحیح نشوونما کے لئے محنت نہیں کی جائے گی تو انسان دوسروں کے لئے اچھے اخلاق کا نمونہ پیش نہیں کر سکے گا کیونکہ لوگ اُسے کہیں گے تمہاری اپنی اخلاقی تربیت اور نشو و نما نہیں ہوئی تم ہمیں کیا بتاؤ گے۔اگر روحانی طاقتوں کی نشوونما کے لئے مجاہدہ نہیں ہو گا تو روحانی صلاحیت روحانی ثمرات پر منتج نہیں ہوگی، اس کا کوئی پھل نہیں ملے گا۔اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا یا اتنا نتیجہ نہیں نکلے گا جتنا نتیجہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ نکلے۔پس یہ تمہید ہے۔میں نے اسے مختصر بیان کیا ہے۔کیونکہ آج میں خطبہ کو مختصر کرنا چاہتا ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پانچ سات دن سے گرمی لگنے کی وجہ سے میں پھر بیمار ہو گیا ہوں۔ایک تو میرے خون میں شکر زیادہ ہوگئی ہے۔دوسرے پانچ سات دن سے اتنی شدید سر درد ہے کہ عمر میں ایسی سر درد کم ہوئی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا۔جمعہ کی نماز سے دو چار گھنٹے پہلے یہ درد اچانک غائب ہو گئی لیکن پہلے جو بیماری تھی اس کا اب بھی اثر ہے۔دراصل خود گرمی میرے لئے ایک بیماری ہے۔جس طرح نزلہ اور زکام اور کھانسی اور ٹائیفائیڈ اورفلواور ملیر یا یا اور ہزار قسم کی بیماریاں ہوتی ہیں اسی طرح بعض لوگوں کے لئے گرمی بھی بیماری بن جاتی ہے۔بہر حال آج میں مختصر خطبہ دینا چاہتا ہوں اور میں بتانا یہ چاہتا ہوں کہ اس زاویہ نگاہ سے ( جسے میں نے ابتدا میں مختصر بیان کیا ہے اور جسے اکثر دوست سمجھ گئے ہوں گے ) قربانی کی ماں در اصل محنت ہے۔اگر آج محنت نہیں کریں گے تو آپ کو وہ چیز حاصل نہیں ہوگی جسے قربان کر کے انسان اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کیا کرتا ہے۔اگر آپ دنیوی حسنات کے لئے خلوص نیت کے ساتھ محنت نہیں کریں گے اور محنت کو اس کی انتہا تک نہیں پہنچائیں گے تو آپ کو دولت نہیں ملے گی۔تاہم دُنیا میں ایک وہ انسان ہے جو دُنیا کے لئے دُنیا کماتا ہے اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا ہے۔