خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 226 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 226

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۲۶ خطبہ جمعہ ۱۹ رمئی ۱۹۷۲ء نے انسان کو جتنی بھی قوتیں اور صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں، وہ اپنی تمام قوتوں اور صلاحیتوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان قوتوں اور صلاحیتوں کی نشوونما کے لئے جو بھی سامان پیدا کئے ہیں، ان کے متعلق اللہ تعالیٰ کا مطالبہ یہ ہے کہ اُن سب کو میرے حضور پیش کر دو۔یہ دُنیا کی تمام اشیاء اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ جتنی بھی نعمتیں ہیں وہ دراصل مقصود بالذات نہیں۔وہ تو اس لئے پیدا کی گئی ہیں تا کہ انسان کو جو چار قسم کے مختلف بنیادی قومی دیئے گئے ہیں اور بنیادی طور پر چار قسم کی صلاحیتیں اسے عطا کی گئی ہیں ، اُن سے تعلق رکھنے والی ہر قوت اور ہر صلاحیت کی صحیح اور کامل نشو ونما ہو سکے۔غرض ہم نے اپنے مالوں میں سے ایک حصہ خدا تعالیٰ کی راہ میں پیش کیا ہے۔یہ مال و دولت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، جو اس دُنیا کے عام قاعدہ کی رو سے ملتی ہے۔گو بعض استثی بھی ہوتے ہیں لیکن اصولی طور پر اور دنیوی قاعدہ کے لحاظ سے یہ جو مال کی عطا ہے یہ انسان کو براہ راست نہیں ملتی بلکہ کوشش اور محنت کے نتیجہ میں جب اللہ تعالیٰ کا اس پر فضل نازل ہوتا ہے تو اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے مال اور دولت عطا ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے گھر سے تو کچھ نہ لائے۔۔اس کا اصولی طور پر ایک مفہوم تو یہ ہے کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ہم ماں کے پیٹ سے تو کچھ نہیں لائے۔دوسرے اس کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ خدا تعالیٰ کی جو عطا کردہ قو تیں ہیں اور جو طاقتیں ہیں مثلاً سمجھ ہے، فراست ہے، تجارت کرنے کی ایک صلاحیت عطا کی جاتی ہے یا زمیندارے کی صلاحیت ہے یا دنیا کے دوسرے کام ہیں جن کے نتیجہ میں دولت پیدا ہوتی ہے۔چنانچہ انسان کی ساری قوتیں جن کا تعلق اس دُنیوی دولت کے ساتھ ہے اور جن کے نتیجہ میں دولت پیدا ہوتی ہے، ان کی بنیادی چیز یہ ہے کہ محنت کی جائے۔پس یہ محنت ہی ہے جس سے ہر قوت اور صلاحیت طاقت حاصل کرتی ہے۔جس طرح انسانی جسم محنت سے طاقت حاصل کرتا ہے اسی طرح دوسری صلاحیتیں بھی محنت سے قوت اور طاقت حاصل کرتی ہیں اور نشو و نما پاتی ہیں۔