خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 4 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 4

خطبات ناصر جلد چہارم خطبہ جمعہ کے رجنوری ۱۹۷۲ء ہے۔جامعہ احمدیہ کو بھی اپنی ترقی کے لئے سوچنا چاہیے اور بہتری کے لئے سامان کرنا چاہیے۔جامعہ احمدیہ سے شاہد کرنے کے بعد پھر ہم ان کو ریفریشر کورسز کرواتے ہیں۔پھر بعض کو زبانیں سکھاتے ہیں۔اس کے اوپر بڑا خرچ آتا ہے۔ہمیں اس وقت جتنی ضرورت ہے اس کے مطابق ہمارے پاس وسائل نہیں۔ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں حالانکہ کام بڑھ گیا ہے۔مبلغین کے علاوہ ہمارے پاس پاکستان میں جو شاہد اور معلم ہیں جو پرانے اصلاح کرنے والے ہیں وہ بھی اسی طرح بڑے پایہ کے ہونے چاہئیں۔یہ سارے اس پایہ کے نہیں جس پایہ کے ان کو ہونا چاہیے۔اس لئے انہیں یہ کوشش کرنی چاہیے کہ اعلیٰ پایہ کے مربیان و معلمین بن جائیں اور وہ بن سکتے ہیں اگر چہ جامعہ احمدیہ کی پڑھائی کے نتیجہ میں تو نہیں بنتے لیکن وہ اپنی دُعاؤں کے نتیجہ میں پایہ کے مبلغ ضرور بن سکتے ہیں کیونکہ دعاؤں کے نتیجہ میں اگر ہر چیز حسب منشاء بن سکتی ہے تو اس لحاظ سے ہر شخص پایہ کا مبلغ بھی بن سکتا ہے۔جو شخص خدا تعالیٰ سے پیار کا تعلق پیدا کرے گا اور دعائیں کرے گا تو خدا تعالیٰ خود اسے سکھائے گا اور اس کا معلم بنے گا۔پس جہاں انتظامیہ کو اس طرف توجہ دینی چاہیے۔وہاں ہر شاہد کو بھی اپنی ذات کی اصلاح کی طرف توجہ کرنی چاہیے ورنہ اگر دوسرے عریبک ٹیچر ز کی طرح زندگی گزارنی ہے ( میں شاہدین سے کہہ رہا ہوں ) تو پھر آپ نے کیا زندگی گزاری؟ اگر آپ نے سکولوں کے عام عربی معلّم اور مدرس کی طرح زندگی گزاری تو پھر آپ نے یہ تو بڑا ظلم کیا۔اس معلم کو تو علم ہی نہیں کہ وہ خدا کا پیار کس طرح حاصل کر سکتا ہے اور کتنا حاصل کر سکتا ہے۔پس شاہدین کو یہ علم ہوتے ہوئے اور دوسروں کو دیکھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کتنا پیار کرنے والا ہے اور یہ کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کر سکتے ہیں پھر بھی وہ اللہ تعالیٰ کے پیار سے محروم رہیں تو میرے نزدیک اس سے زیادہ بد قسمتی اور کوئی نہیں ہو سکتی۔بہر حال جامعہ احمدیہ پر بھی بڑے پیسے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔میٹرک پاس طلباء لیتے ہیں اور پھر ان کو آگے پڑھاتے ہیں۔پھر جس طرح ہر زندہ اور ہرے بھرے درخت کی ٹہنیاں سوکھ جاتی ہیں۔اسی طرح شاہدین میں سے بھی کچھ کاٹنے پڑتے ہیں۔ہر سال کچھ چھانٹی کرنی پڑتی