خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 5 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 5

خطبات ناصر جلد چہارم ہے۔نتیجہ بہت تھوڑا نکلتا ہے۔خرچ بڑا ہوتا ہے۔خطبہ جمعہ ۷ رجنوری ۱۹۷۲ء ہمارے وسائل محدود تھے اور جو مبلغین ہم تیار کر رہے تھے ، ان پر فی کس خرچ بہت زیادہ تھا لیکن یہ کام اپنی ضرورت کے لحاظ سے بڑا اہم ہے۔اس لئے اسے جاری رکھنا ضروری تھا۔پس ایک طرف یہ چیز تھی اور دوسری طرف وسعت پیدا کرنی تھی۔اب میں سوچتا ہوں کہ جس طرح میرے دماغ میں آیا ہے، حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے دماغ میں بھی یہی بات آئی تھی کہ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے کام میں وسعت پیدا کریں اور وسعت پیدا کریں۔ان لوگوں کے ذریعہ جو تھوڑا گزارہ لیں اور وقف کی روح کے ساتھ آئیں چنانچہ آپ نے ایک خطبہ میں ہزاروں کی سکیم بنادی۔آپ نے اپنی خواہش کا اظہار کر دیا۔اب وہ بین سال کے بعد پوری ہوتی ہے یا پچاس سال کے بعد پوری ہوتی ہے۔یہ ایک علیحدہ بات ہے لیکن آپ نے اپنی ایک خواہش کا اظہار کر دیا کہ ۷۲ لاکھ روپے آمد ہو سکتی ہے اور اس کے مطابق ساٹھ روپے ماہوار پر کئی ہزار آدمی رکھے جا سکتے ہیں۔ویسے اب تو حالات بدل گئے ہیں۔میرے خیال میں اب ساٹھ روپے کی بجائے نوے روپے دیئے جار ہے ہیں۔بایں ہمہ آدمی کم آرہے ہیں۔انسان سوچتا ہے تو اور فکر و تدبر کرنے والا انسان بالعموم ایک منصوبہ بناتا ہے کہ اگر وہ اس طرح کام کرے تو اپنے وسائل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔مگر وقف جدید کے کام کے لحاظ سے جماعت کو اس طرف توجہ نہیں۔کچھ تو تو جہ ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ بالکل توجہ نہیں ہے لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ جتنی اس حصے کی طرف توجہ کرنی چاہیے تھی اس کا دسواں حصہ تو جہ ہے، نوے فی صد توجہ نہیں ہے۔معلّمین اصلاح وارشاد جماعتی تنظیم کے ماتحت کام کر رہے ہیں۔ان سے زیادہ پڑھے لکھے شاہدین بھی کام کر رہے ہیں مگر پچاس، ساٹھ شاہدین کے علاوہ صرف ساٹھ ،ستر نیم پڑھے معلمین وقف جدید رکھنے سے کیا فائدہ ہے کیونکہ جو اصل غرض تھی وہ تو ان کے ذریعہ پوری نہیں ہوئی۔اصل تخیل تو یہ تھا کہ کام میں یک دم وسعت پیدا کرو۔آپ جو معلم لیتے ہیں وہ آٹھویں جماعت تک پڑھے ہوتے ہیں۔انہیں ایک سال کا یہاں کورس کراتے ہیں۔ان کی حالت تو تیلی