خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 3
خطبات ناصر جلد چہارم خطبہ جمعہ کے جنوری ۱۹۷۲ء نے قائم کیا ہے۔جس طرح بحیثیت فرد اس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔اسی طرح بحیثیت جماعت اس نے ہمیں قائم کیا ہے اور جن اغراض کے لئے اُس نے ہمیں قائم کیا ہے اور جن را ہوں پر وہ ہمیں چلانا چاہتا تھا وہ وَقَدْ هَدْنَا سُبُلَنا کی رو سے واضح ہیں۔اُس نے ہمیں اپنے راستے دکھائے ہیں۔انسانی فطرت کے نئے تقاضے ہوتے ہیں۔البتہ فطرت کے نئے تقاضے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ انسانی فطرت ہی بدل گئی بلکہ مطلب یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں جو کچھ رکھا گیا تھا، اس کا استعمال بدل گیا کیونکہ انسان کی فطرت میں تھا دوسرے آدمی سے ہمدردی کرنا اور اس کے دُکھوں کا مداوا کرنا۔اگر دُنیا کے دُکھ بدل جائیں تو گویا فطرت کے تقاضے بھی بدل گئے۔پھر ایک نئے طریقے پر ، نئے دُکھوں کا نیا علاج سوچنا پڑے گا۔پھر وقت کا تقاضا ہے۔بدلے ہوئے حالات میں ہماری قربانیاں اور ہمارے خدمت کے طریق بدل جاتے ہیں۔تو خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو اور اپنی محبوب جماعتوں کونئی راہیں بتا تا ہے اور انہیں نئے طریقے سکھاتا ہے۔نئے نئے طریقوں سے انہیں ترقی پر ترقی دیتا چلا جاتا ہے۔66 چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی ایک طریقہ یا ایک سبیل یا ایک راہ یا ایک صراط مستقیم وقف جدید کی شکل میں ہمارے سامنے رکھی ہے اور وقف جدید کی روح یہ ہے کہ وقف کی روح کے ساتھ بنی نوع انسان کی خدمت میں وسعت پیدا کی جائے چنانچہ حضرت الصلح الموعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دراصل یہی منشاء تھا کیونکہ اس سے پہلے جماعتی نظام تو موجود تھا۔تحریک جدید بھی قائم تھی اور وہ اپنے کاموں میں لگی ہوئی تھی۔جماعت کی ہر ایک تنظیم کا اپنا انتظام تھا اور وہ اپنے کام میں لگی ہوئی تھی لیکن میں نے جہاں تک غور کیا اور میں سمجھتا ہوں یہ میرا اپنا تجزیہ اور استدلال ہے کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک طرف تو یہ بات تھی کہ تحریک جدید کا اپنا ایک طریق متعین ہو گیا ہے اور تحریک جدید کے کام کا تقاضا یہ ہے کہ بہت بڑے عالم ہوں ( خدا کرے کہ ہمیں ایسے عالم میں اور ہمیشہ ملتے رہیں) کیونکہ انہیں باہر بھی جانا پڑتا ہے۔جہاں انہیں بڑے بڑے پادریوں سے جو اپنے آپ کو دنیا کا معلم سمجھتے ہیں۔خواہ وہ معلم ہوں یا نہ ہوں بہر حال وہ اپنے آپ کو دنیا کا معلم سمجھتے ہیں ان کے ساتھ باتیں کرنی پڑتی ہیں۔اس غرض کے لئے جامعہ احمد یہ قائم