خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 126
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۲۶ خطبہ جمعہ ۱۷ / مارچ ۱۹۷۲ء نے اس کا اظہار کیا تو ہم نے ان کو کپڑے بنا کر دیئے۔یہ سن کر کہ جماعت احمدیہ میں کوئی ایسا ولی بھی ہو سکتا ہے مجھے تو پسینہ آ گیا کیونکہ ولایت کے معنے ہی اللہ تعالیٰ سے پختہ تعلق پیدا کرنے اور اپنے دل میں اس کی کامل خشیت رکھنے اور اسی کو ربنا، رہنا کہنے اور کسی دوسرے کو کسی قسم کا سہارا نہ سمجھنے کے ہوتے ہیں مگر جو لوگ دعاؤں اور خوابوں کو احتیاج پوری کرنے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں اور خدا کو چھوڑ کر اس کے بندوں کے محتاج بنتے ہیں ایسی ولایت پر ہر احمدی بچہ اور بوڑھا جس نے احمدیت کو پہچانا ہے وہ تھو کے گا بھی نہیں۔اسلام آپ کا اور میرا خدا تعالیٰ سے جو تعلق قائم کرنا چاہتا ہے۔خدا تعالیٰ نے اپنی جو محبت ہمارے اندر پیدا فرمائی ہے۔خدا تعالیٰ نے ہمیں اپنی صفات کے جلوے مشاہدہ کروا کر ہمیں جس شدت کے ساتھ اپنی طرف کھینچا ہے اور اُس نے ہمیں اپنا جو حسن دکھایا ہے اس کی موجودگی میں ہماری نگاہ کسی اور کی طرف اٹھتی ہی نہیں۔ایسی صورت میں ہم بندوں کے محتاج کیسے بن سکتے ہیں یا بندوں کی طرف راغب کیسے ہو سکتے ہیں سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے متعلق خود فرمائے مثلاً حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق خدا نے فرمایا کہ یہ میرا اتنا پیارا ہے یہ میری راہ میں اسی طرح قربان ہونے والا ہے یہ میری صفات کے رنگ کو اس طرح اپنے اوپر چڑھانے والا ہے کہ اس سے زیادہ حسین شکل میں کسی اور نے میری صفات کے رنگ کو اپنے اوپر نہیں چڑھایا اور میری راہ میں اس سے زیادہ کسی نے قربانی نہیں دی۔اس نے سب کچھ میری راہ میں قربان کر دیا۔اس نے اپنی ساری قوتیں، طاقتیں اور صلاحیتیں کہ اتنی کسی اور انسان کو نہیں ملیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی وہ تمام قوتیں ، طاقتیں اور صلاحیتیں اپنے رب کی راہ میں قربان کر دیں۔خدا تعالیٰ نے فرمایا یہ تمہارے لئے نمونہ بن گیا ہے۔تم اس سے پیار کرو گے۔اس کے نقش قدم پر چلو گے اس کو اپنے لئے اسوہ بناؤ گے تو میرے پیار کو حاصل کر لو گے یعنی جو را ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مجھ تک پہنچاسکیں اگر تم بھی ان پر چلو گے تو تم بھی کیوں نہیں پہنچو گے۔تم بھی اگر مجھ تک پہنچ گئے تو اپنی اپنی طاقت کے مطابق تم بھی میری رحمت سے حصہ پاؤ گے۔یا پھر خلفاء کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے اور وہ بھی حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے