خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 125
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۲۵ خطبہ جمعہ ۱۷ / مارچ ۱۹۷۲ء میں بھی موجود ہیں مگر یہ ولایت اور چیز ہے اور گدی والی ولایت اور چیز ہے۔اس گدی والی ولایت کی اجازت ہی نہیں اور نہ یہ عنداللہ مقبول ہو سکتی ہے کیونکہ یہ نفاق کی حدود پر قائم ہے۔چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے متعدد موقعوں پر جماعت کو یہ فرمایا ہے کہ بعض لوگ ولایت کی گدی بنا رہے تھے اور خلافت کے زمانہ میں اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی لیکن میں نے بتایا ہے کہ کئی منافق کہیں گے کہ انہوں نے جماعت میں کسی کے بھی ولی اللہ ہونے کا انکار کر دیا ہے یعنی یہ کہ جماعت میں اب کوئی ولی پیدا نہیں ہوگا۔منافق اس قسم کے اعتراض ڈھونڈتے رہتے ہیں۔آپ ان کو جواب دیں۔جواب میں آپ کو بتا رہا ہوں۔اور وہ یہ ہے کہ اُمت محمدیہ اولیاء اللہ کی اُمت ہے۔اس میں ایک ایک وقت میں ہزاروں لاکھوں اولیاء ہوتے رہے ہیں لیکن وہ ولی جو حقیقی معنی میں ولی ہوئے ہیں۔جو اپنے عاجزانہ مقام کو پہچانتے ، اپنی عاجزانہ راہوں کو بھولتے نہیں اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حضور گرے رہتے ہیں۔میں اس ولایت کی بات نہیں کر رہا۔میں صرف اس گدی والی ولایت کی بات کر رہا ہوں جس کے متعلق مجھ سے پہلوں نے بھی کہا اور بعد میں آنے والے بھی کہتے رہیں گے کیونکہ یہ فتنہ ساتھ لگا ہوا ہے۔اور اس گدی والی ولایت کی دو بڑی نمایاں خصوصیتیں ہیں۔وہ میں آپ کو بتا دیتا ہوں۔آپ خود ان کے مطابق ایسے لوگوں کو پرکھ لیں۔چنانچہ بعض گدی والی ولایتوں میں دونوں خصوصیتیں پائی جاتی ہیں اور بعض میں پہلی یا دوسری خصوصیت پائی جاتی ہے۔پس یہ گدی والی ولایت جو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں مکروہ ولایت ہے۔جو دراصل ولایت ہے ہی نہیں۔لوگ اپنے آپ ایسے شخص کا نام ولی رکھ دیتے ہیں۔تاہم اس ولایت کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ ایسا شخص اپنے خوابوں کو دُنیوی اموال کے حصول کا ذریعہ بنالیتا ہے۔اس کے متعلق لوگوں میں یہ غلط طور پر مشہور ہو جاتا ہے کہ یہ بڑے بزرگ ہیں۔ان کی دعائیں مقبول اور خوا ہیں سچی ہیں۔اس لئے ان کو جا کر یہ دے دو وہ دے دو۔ان کو کپڑے بنا کر دے دو۔ان کے لئے یہ د کر دو وہ کر دو۔پھر ایسے ” بزرگ اشارۂ یا کھل کر مانگتے بھی ہیں۔چنانچہ ایک شخص نے مجھے بتایا کہ فلاں ولی اللہ صاحب ہمارے ہاں آئے تھے۔ان کے پاس کپڑے بھی نہیں تھے۔انہوں