خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 127 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 127

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۲۷ خطبہ جمعہ ۱۷؍ مارچ ۱۹۷۲ء اسوہ کی وجہ سے۔آپ نے فرمایا ہے کہ میری اور میرے خلفاء کی سنت تمہارے لئے اسوہ ہے۔خلیفہ سے مراد وہ شخص ہوتا ہے جو اپنا کچھ نہیں رکھتا بلکہ وہ نبی متبوع کے وجود کا ایک حصہ ہوتا ہے اور اسی کا رنگ اس کے اوپر چڑھا ہوا ہوتا ہے۔اسی لئے آپ نے فرمایا کہ خلفاء کی سنت بھی تمہارے لئے اسوہ ہے۔یعنی اگر کسی وقت کسی مقام پر کسی زمانے میں میرا جوحسن ہے یا مجھ پر خدا تعالیٰ کی صفات کا جو رنگ چڑھا ہوا ہے وہ تمہیں صاف اور واضح طور پر نظر نہ آئے تو میرے خلفاء کی طرف دیکھ لینا کیونکہ جو ان کا رنگ ہے وہ ان کا اپنا نہیں ہے بلکہ میرے نائب ہونے کی حیثیت سے ان میں میرا ہی حسن جلوہ گر ہے۔اُن پر میرا ہی رنگ چڑھا ہوا ہے۔اگر زمانہ کی دوری یا مکان کی دوری کی وجہ سے تمہیں کوئی شبہ پیدا ہو تو اس وقت جو میرے نائب اور خلفاء ہوں گے اُن کے اندر تمہیں میرے حسن اور میری سنت کا اسوہ نظر آئے گا۔اس لئے تم اُن کی پیروی کرنا۔پس چونکہ خلفاء کا اپنا کچھ نہیں ہوتا اس لئے ان کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے اور یہ اس لئے نہیں کہ اس طرح خدا تعالیٰ اُن کو کوئی رفعت دینا چاہتا ہے۔اُن کے لئے تو خدا تعالیٰ کا پیار کافی ہے۔اس لئے ان کو تو کسی اور رفعت کی ضرورت نہیں ہوتی۔اُنکی اطاعت کا حکم دراصل اس لئے دیا گیا ہے کہ ان کے ذریعہ خدا تعالی تمہیں رفعت بخشا چاہتا ہے۔اگر تم ان کی اطاعت نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم ابلیس بن جاؤ گے اگر تم ابلیس نہیں بننا چاہتے تو پھر تمہیں خلفاء کی اطاعت کرنی پڑے گی۔تمہیں ان کی کامل طور پر اور بشاشت کے ساتھ اطاعت کرنی پڑے گی۔پس خلافت کے زمانہ میں یہ گدی والی ولایت ہو ہی نہیں سکتی۔جب خلافت کا زمانہ نہ ہو تو اس وقت گدی والی خلافت سے ملتی جلتی خلافت ہوتی ہے۔وہ بھی حقیقتا گدی والی خلافت نہیں ہوتی لیکن ایک تھوڑے سے دائرہ کے اندر ایک نائب رسول اپنی محدود صلاحیتوں کے ساتھ اُمت مسلمہ کے ایک حصے کے شیرازہ کو مضبوط اور ان کے اتحاد کو قائم رکھتا ہے۔لیکن ہر خلافت کے زمانہ میں جہاں ہزاروں لاکھوں اولیاء ہو سکتے اور ہوتے ہیں وہاں ایک بھی خدا کا پیارا اور محبوب گدی والا ولی نہیں ہے اور وہ خدا تعالیٰ کا پیارا کیا ہوا جس نے اپنی دعاؤں اور خوابوں کو اپنی