خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 523 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 523

خطبات ناصر جلد سوم ۵۲۳ خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۷۱ء سارے روزے رکھنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا وہ ستر سال کی عمر میں بھی آرام سے روزے رکھتا ہے اور اسے کچھ پتہ ہی نہیں لگتا۔بہر حال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا يَخَافُ رَهَقًا کہ اے انسان! خواہ تیری صحت کیسی ہو! خواہ تیری عمر کتنی ہو! خواہ تیرا ماحول کیا ہو! تیری طاقت کے خلاف یا تیری طاقت سے بڑھ کر بوجھ تمہارے اوپر نہیں ڈالا جائے گا۔پھر مثلاً نماز ہے۔بڑا زور دیا ہے کہ مسجد میں آکر نماز پڑھولیکن یہ نہیں کہا کہ ہر فرد کے لئے مسجد میں آکر نماز پڑھنا ضروری ہے ورنہ وہ کافر ہو جائے گا۔یہ اسلام میں نہیں ہے۔اسلام نے کہا ہے کہ جو آدمی بیمار ہے وہ اپنے گھر پر نماز پڑھ لے۔نماز کی ایک ظاہری شکل بنائی ہے مثلاً ہم کھڑے ہوتے ہیں پھر رکوع کرتے ہیں پھر کھڑے ہوتے ہیں۔پھر سجدہ میں جاتے ہیں۔پھر دوسجدوں کے درمیان بیٹھتے ہیں۔پھر ہم التحیات یعنی قعدہ میں بیٹھتے ہیں لیکن ایک بیمار شخص ان ساری اشکال کے مطابق یا بعض شکلوں کے مطابق نماز نہیں پڑھ سکتا۔اس کو کہا کہ لَا يَخَافُ دَهَقًا کہ تجھ پر ایسا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا جو تیری طاقت سے بالا ہو۔چنانچہ بیمار، معذور یا مجبور ہونے کی صورت میں ایک کو کہا کہ تو بیٹھ کر نماز پڑھ لے، دوسرے کو کہا کہ تو لیٹ کر نماز پڑھ لے، تیسرے کو کہا کہ تو اشاروں سے نماز پڑھ لے۔چوتھے سے کہا کہ تو ہتھیار باندھ کر نماز پڑھ اور اپنا کام کرتا جا۔غرض اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا اتنا خیال رکھا ہے کہ اگر سوچیں تو ہم خود اتنا خیال نہ رکھ سکتے۔لا يَخَافُ رَهَقًا کے اعلان کے بعد کسی کو یہ خوف نہیں ہوگا کہ وہ کسی وقت ایسی منزل میں ہوگا یا ایسی حالت میں ہوگا کہ اسلام کے کسی حکم کی پابندی نہ کر سکے تو گناہ گار بن جائے گا۔اس شکل میں تو پابندی نہیں کرے گا لیکن گناہگار نہیں بنے گا۔مثلاً جو آدمی بے ہوش ہے اور بعض دفعہ چار چار دن تک آدمی بے ہوش رہتا ہے کیا ایسا شخص نمازیں چھوڑ کر گناہگار بن گیا؟ نہیں لا يَخَافُ رَهَقًا کی رو سے جو اس کی طاقت نہیں ہے اس سے زیادہ اس پر بوجھ نہیں ڈالا جائے گا بلکہ یہاں تک فرمایا کہ اگر اپنی غلطی کی وجہ سے بھی تم بیدار نہ رہو اور شکر ان کی حالت میں ہو تب بھی نماز پڑھنے کے لئے