خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 522 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 522

خطبات ناصر جلد سوم ۵۲۲ خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۷۱ء روزہ نہیں رکھنا کیونکہ ابھی تم میں روزے کی طاقت پیدا نہیں ہوئی۔اب امریکہ میں جو نئے تجربے کئے گئے ہیں واللہ اعلم کب تک ان کو صحیح سمجھا جائے گا۔ان تجربات کی رُو سے اٹھارہ سال کی عمر تک انسان کھانے کے اعتبار سے بچہ متصور ہوتا ہے چنانچہ انہوں نے غذا کا ایک فارمولا بنایا ہے اور وہ یہ ہے کہ اٹھارہ سال کی عمر تک کا بچہ ( کھانے کے لحاظ سے وہ بچہ ہے ) جس وقت جس چیز کی جتنی مقدار میں خواہش کرے وہ اسے ملنی چاہیے۔تب اس کی (جسمانی ) صحیح نشوونما ہوسکتی ہے اسی واسطے اٹھارہ سال کی عمر سے کم کے بچوں کو عادت ڈالنے کے لئے تو کچھ روزے رکھوانے چاہئیں لیکن ایک مہینہ کے لگا تار روزے نہیں رکھوانے چاہئیں کیونکہ رمضان کے لئے وہ عمر بلوغت نہیں ہے رمضان کا تعلق انسان کی روح سے بھی ہے مثلاً تنویر قلب ہوتی ہے۔رُوح میں روشنی اور بشاشت پیدا ہوتی ہے۔انسان پر اگر اللہ تعالیٰ کا فضل ہو جائے تو وہ روحانی طور پر ترقی کر کے کہیں سے کہیں جا پہنچتا ہے۔غرض روزوں کا انسانی جسم پر بھی اثر ہے۔اخلاق پر بھی اثر ہے۔مختلف چیزوں پر اثر ہے لیکن جسم پر بھی اثر ہے مگر اٹھارہ سال کے بعد انسانی جسم پر روزے کا اچھا اثر پڑے گا یعنی صحت قائم رہے گی۔اٹھارہ سال سے کم عمر والا بچہ خواہ اپنی عمر کے لحاظ سے بہترین صحت میں ہو۔مثلاً دس سال کا بچہ ہے یا آٹھ سال کا بچہ ہے اور پورا صحت مند ہے۔اس کی آنکھوں میں چمک ہے اور فراست ہے اور طاقت کے آثار ہیں لیکن خدا تعالیٰ اُسے فرماتا ہے کہ تو روزہ نہ رکھ کیونکہ تیری نشو و نما کا زمانہ ہے۔روزے کی بلوغت کے دائرہ میں تو داخل نہیں ہوا۔جب داخل ہو جائے گا تو ٹھیک ہے پھر اللہ تعالیٰ اسی طرح صحت قائم رکھے تو وہ ساری عمر روزے رکھتا چلا جاتا ہے مگر کئی لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں پچاس سال کی عمر میں روزے کی طاقت نہیں رہتی۔ڈاکٹر کہتا ہے روزے نہ رکھو کیونکہ کسی کے دل میں تکلیف ہو جاتی ہے، کسی کے جگر میں تکلیف ہو جاتی ہے کسی کی ہڈیوں میں تکلیف ہو جاتی ہے کسی کے سینے میں تکلیف ہو جاتی ہے،کسی کے اعصاب میں تکلیف ہو جاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ہزار ہا بیماریاں ہیں جو ہزاروں انسانی خطاؤں کے نتیجہ میں انسانی جسم میں پیدا ہو جاتی ہیں۔لیکن ایک ایسا بچہ بھی ہے جس کو اٹھارہ سال کی عمر تک پوری صحت کے باوجود