خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 524 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 524

خطبات ناصر جلد سوم ۵۲۴ خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۷۱ء انتظار کرو۔وہ دوسرا جرم ہے لیکن نماز کو جان بوجھ کر چھوڑ دینا یہ بہت بڑا جرم ہے مگر اس کا بھی خیال رکھا۔ماں نے کیا خیال رکھنا ہے اور باپ نے کیا توجہ دینی ہے اور دوست نے اخوت کا کیا مظاہرہ کرنا ہے۔تمہارے رب نے تو کہیں زیادہ ہم سے پیار کیا اور پیار کی شکلیں بنادیں پس بد بخت ہے وہ آدمی جو اپنے خدا کو چھوڑتا ہے اور ایمان بالرب نہیں لاتا۔پھر تو اس کو ”بخس‘ کا بھی ڈر ہے اس پر ظلم بھی ہوں گے اور اسے نقصان بھی پہنچیں گے اور ان کا کوئی مداوا نہیں ہوگا۔اپنے رب کو چھوڑ کر وہ کہاں جائے گا اور پھر یہ بھی ہو گا کہ گناہ کرے گا کیونکہ اپنی طرف سے جو شرعی حکم بنائے گا اور سمجھے گا کہ شریعت اسلامیہ حقہ نے جو احکام ( اوامر و نواہی ) دیئے ، اس سے زیادہ مجھے چاہیے وہ بھی گناہگار بن جاتا ہے۔تکمیل شریعت میں اسی طرف اشارہ ہے۔پس اپنے رب سے پختہ تعلق قائم کرو۔رمضان کا ایک موقع تھا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیا۔جو سبق آپ کو اور مجھے سیکھنا چاہیے تھا خدا کرے کہ وہ سبق ہم سیکھیں اور پھر بھولیں نہ۔کیونکہ اپنے رب سے تو ہمیشہ کا ساتھ ہے۔وہ کون سی گھڑیاں ہیں جو آپ اپنے رب سے چھپ کر گزار سکتے ہیں۔جب اس سے ہمیشہ کا ساتھ ، ہمیشہ کا واسطہ ہے اور ہمیشہ کے پیار کی ضرورت ہے اور اس نے اپنے آپ کو بار بار رحم کرنے والا کہا ہے تو اس کا یہی مطلب ہے کہ تمہیں میرے رحم کی بار بارضرورت پڑے گی۔یہ نہ سمجھنا کہ ایک کروڑ دفعہ میں نے تم پر رحم کیا ایک دفعہ اور رحم نہیں کر سکتا یا ایک ارب دفعہ رحم کیا ہے تو اور دس ارب دفعہ نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں بار بار رحم کرنے والا ہوں۔یہ میری صفات میں سے ہے۔پس اپنے اس پیارے رب سے اپنا تعلق پیدا کرو اور اپنی ذمہ داریوں کو نبھاؤ اور اپنی دعاؤں میں تحریک جدید کے اُن مخلصین کو بھی یاد رکھو جو اخلاص کے ساتھ خدا تعالیٰ کی راہ میں پیسے خرچ کرتے ہیں۔تحریک جدید کی طرف سے کل رپورٹ آئی تھی مجھے تو آج ہی ملی ہے سالِ رواں میں نوسو پندرہ مخلصین نے اپنے وعدے کی پوری رقوم ادا کر دی ہیں گو میں نے ایک سرسری نظر ڈالی تھی پھر بھی مجھے تعجب ہوا کہ بعض دوستوں نے اپنی حیثیت سے بہت کم چندہ لکھوایا ہوا ہے لیکن بہر حال اللہ تعالیٰ ان کو اجر عطا فرمائے۔ان میں سے اکاون مخلصین نے ایک ایک ہزار روپے کا وعدہ