خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 385
خطبات ناصر جلد سوم ۳۸۵ خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۷۰ء بعض جماعتوں نے اس طرف توجہ دی ہے بعض نے بڑی غفلت برتی ہے اگر ہم جماعتوں کا سرسری جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کراچی کی جماعت اپنے ٹارگٹ کو پہنچ گئی ہے جب میں نے یہ اعلان کیا تھا یعنی سات لاکھ نوے ہزار کا ٹارگٹ مقرر کیا تھا تو دفتر تحریک نے ہر بڑی جماعت اور ضلع کا نسبتی طور پر ٹارگٹ مقرر کر دیا یعنی جو چونتیسویں پینتسویں سال کا چندہ تھا اس کے ٹوٹل اور سات لاکھ نوے ہزار کی جو نسبت بنتی تھی اس نسبت سے تحریک نے کہا کہ ہر جماعت اور ضلع اتنا زیادہ دے دے تو جو ٹا رگٹ ہے وہ پورا ہو جاتا ہے۔اس نسبت سے یعنی سات لاکھ نوے ہزار کے ٹارگٹ کے لحاظ سے کراچی کو جتنا دینا چاہیے تھا اتنا اس نے دے دیا ہے۔الحمدللہ ، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔اسی طرح اسلام آباد ہے پھر ضلع ہزارہ ہے پھر جہلم شہر ہے اسی طرح بنوں شہر ضلع ہے پھر ساہیوال شہر ہے، پھر ڈیرہ غازی خان شہر وضلع ہے پھر بہاولپور شہر وضلع ہے اور اسی طرح ڈھا کہ شہر، ان سب نے اپنے تحریک جدید کے چندے اس نسبت سے بڑھا دیئے کہ جس نسبت سے سات لاکھ نوے ہزار کی رقم پوری کرنے کے لئے ان پر ذمہ داری آتی تھی اللہ تعالیٰ انہیں بھی جزائے خیر عطا فرمائے۔لیکن بعض ایسی جماعتیں بھی ہیں جو کچھ ست ہیں اور بعض ایسی جماعتیں ہیں جن سے ہم توقع رکھتے تھے کہ وہ اس طرف زیادہ توجہ دیں گی مگر انہوں نے توجہ نہیں دی مثلار بوہ ہے۔ربوہ اپنے اس ٹارگٹ کو نہیں پہنچا اور یہ بڑے افسوس کی بات ہے ربوہ کو تو باہر کی جماعتوں کے لئے نمونہ بنا چاہیے مگر یہ نمونہ نہیں بنے نہ صرف یہ کہ ربوہ کے دوست باہر کی جماعتوں کے لئے نمونہ نہیں بنے بلکہ انہوں نے کراچی اور دوسرے شہر واضلاع کے نمونے سے بھی فائدہ نہیں اٹھایا ٹارگٹ کے لحاظ سے ربوہ کو نوے ہزار کی رقم دینی چاہیے تھی جس میں سے صرف ستاون ہزار کے وعدے ہیں۔اسی طرح لاہور شہر کا حال ہے یہ امیر احمدیوں کا شہر ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کی کامل روح موجود نہیں یا اس روح کو بیدار نہیں کیا گیا دوسری بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے روح تو ہے لیکن نظام جماعت لاہور نے اس روح کو کما حقہ بیدار نہیں کیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کا بھی چورانوے ہزار ٹارگٹ بنتا تھا لیکن صرف بہتر ہزار کے وعدے ہیں