خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 384 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 384

خطبات ناصر جلد سوم ۳۸۴ خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۷۰ء ہوئے ہیں یہ بھی کافی بڑا پروگرام ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے نباہنے کی بھی توفیق عطا فرمائے اللہ تعالیٰ کی حمد کے ترانے گاتے ہوئے اور عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ میں تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان کرتا ہوں جو یکم نبوت ( یکم نومبر ) سے شروع ہوگا یہ نیا سال تحریک جدید کے دفتر اول کا سینتیسواں ۳۷ سال ہے اور دفتر دوم کا ستائیسواں ۲۷ سال ہے اور دفتر سوم کا چھٹا سال ہے۔دو سال قبل میں نے جماعت کو یہ توجہ دلائی تھی کہ تحریک جدید کے کام کی طرف پہلے سے زیادہ متوجہ ہوں اور زیادہ قربانیاں کریں اور زیادہ ایثار دکھا ئیں اور اپنی نئی نسل کو زیادہ بیدار کریں اور انہیں قربانیوں کے لئے تیار کریں دفتر سوم کی ذمہ داری تو انصار اللہ پر ڈالی گئی تھی اس میں بھی ابھی کافی سستی ہے۔اس دو سال میں وہ ٹارگٹ جو میں نے تحریک جدید کے سامنے رکھا تھا یا یوں کہنا چاہیے کہ تحریک کے تعلق میں جماعت کے سامنے رکھا تھا وہ یہ تھا کہ پاکستان کے احمدیوں کی یہ مالی قربانی سات لاکھ نوے ہزار روپے ہونی چاہیے مگر جماعت اس ٹارگٹ تک نہیں پہنچ سکی کچھ جائز وجوہات بھی ہیں۔پہلے فضل عمر فاؤنڈیشن کے چندوں کا زائد بار تھا اب بار تو نہیں کہنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیار کے جو دروازے کھولے تھے ہم اپنی غفلتوں کی وجہ سے یا اپنی بشری کمزوری کے نتیجہ میں اتنا فائدہ نہیں اٹھا سکے جتنا کہ ہمیں اٹھانا چاہیے تھا یا جتنا ہمارا پیارا رب ہم سے توقع رکھتا تھا کہ ہم اٹھائیں گے۔باوجود فضل عمر فاؤنڈیشن کی زائد قربانیوں کے جو جماعت دے رہی تھی پھر بھی پہلے کی نسبت تحریک نے ترقی کی ہے پینتیسویں سال میں چھ لاکھ تیس ہزار تک پہنچے اور چھتیسویں سال میں چھ لاکھ پینسٹھ ہزار تک پہنچے اور سات لاکھ نوے ہزار تک جو میں نے ٹارگٹ مقرر کیا تھا اس میں ابھی ایک لاکھ پچیس ہزار کی کمی ہے کیونکہ اس عرصہ میںنصرت جہاں ریز روفنڈ کا بھی مطالبہ ہوا ہے یہ مطالبہ اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق ہوا ہے۔مغربی افریقہ کی ضرورت کے مطابق یہ مطالبہ ہوا ہے۔اس لئے میں نے سات لاکھ نوے ہزار کا جو ٹارگٹ رکھا تھا کہ یہاں تک جماعت کو پہنچنا چاہیے اس میں کوئی زیادتی نہیں کرنا چاہتا لیکن میں امید رکھتا ہوں کہ جماعت اس سال انشاء اللہ وہاں تک پہنچ جائے گی۔