خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 386
خطبات ناصر جلد سوم ۳۸۶ خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۷۰ء پھر سیالکوٹ شہر ہے۔انہیں پندرہ ہزار کا ٹارگٹ دیا گیا تھا ان کے دس ہزار کے وعدے ہیں (ویسے میں نے سینکڑے چھوڑ دیئے ہیں ہزاروں میں بات کر رہا ہوں ) اسی طرح راولپنڈی شہر ہے جس کے پہلو میں اسلام آباد شہر ہے جس نے اپنا ٹارگٹ پورا کر دیا ہے لیکن راولپنڈی شہر کا چون ہزار روپے ٹارگٹ بنتا تھا اور انہوں نے وعدے صرف تین ہزار کے کئے ہیں یعنی قریباً ۱۷ پچپن فیصد ہیں یہ بہت پیچھے رہ گئے ہیں پھر ملتان شہر ہے اس کا ٹارگٹ سترہ ہزار تھا اور انہوں نے وعدے کیے ہیں گیارہ ہزار کے دفتر نے یہ رپورٹ دی ہے کہ جو شہر یعنی ضلع کا صدر مقام پیچھے ہے وہاں کی ضلعی جماعتیں بھی پیچھے ہیں۔یہ تو ایک طبعی بات ہے جب کسی جماعت نے توجہ نہیں کی اور ستی دکھائی نظام جماعت نے اپنی ذمہ داری کونہیں نباہا تو اگر شہر پیچھے ہے تو ضلع یقینا پیچھے ہوگا بلکہ غالباً کچھ زیادہ پیچھے ہوگا بہر حال ہمارے سامنے یہ بڑی افسوسناک تصویر آتی ہے اللہ تعالیٰ فضل کرے اور ہمیں اپنی ذمہ داری نباہنے کی توفیق عطا کرے۔میں نے آپ کو کچھ معیار بھی بتائے تھے یعنی دفتر اول اس حساب سے اوسطاً رقم دے رہا ہے دفتر دوم کی اوسط کیا ہے اور دفتر سوم کی اوسط کیا ہے اور چونکہ دفتر اول کی اوسط بہت اچھی تھی اور اب بھی ہے اس لئے میں نے اس میں زیادتی نہیں کی تھی دفتر اول میں جو حصہ لینے والے ہیں ان کی اوسط فی کس۔۶۴ روپے ہے اور یہ اوسط بڑی اچھی ہے کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ دفتر اول میں بہت سے احباب کافی بڑی عمر کے ہیں اور میرا یہ خیال ہے (اگر چہ اس حصہ کی میرے پاس رپورٹ تو نہیں لیکن ان کی میرے پاس جو روزانہ رپورٹیں آتی ہیں ان سے پتہ لگتا ہے ) کہ دفتر اول کی مجموعی رقم کم ہو گئی ہے اور ہونی چاہیے تھی کیونکہ بڑی عمر کے لوگ اس میں شامل ہیں۔وفات بھی انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے بعض دفعہ تو روزانہ یا دوسرے دن یہاں جنازہ آجاتا ہے اس سے پتہ لگتا ہے کہ یہ زندگی تو فانی ہے ہمیشہ کے لئے دنیا میں تو کسی نے نہیں رہنا ہم یہاں آئے ہیں پھر گزرجائیں گے۔تا ہم دفتر اول والوں نے اپنی۔/ ۶۴ کی اوسط برقرار رکھی ہے اور یہ بڑی خوشی کی بات ہے اللہ تعالیٰ انہیں بہترین جزاء عطا فرمائے۔/ ۶۴ کے مقابلے میں دفتر دوم کی اوسط فی کس