خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 218
خطبات ناصر جلد سوم ۲۱۸ خطبہ جمعہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۷۰ء کو اس طرح منائیں کہ جو ۶۲ سال احمدیت کی خلافت پر گزرے ہیں ۲۲ لاکھ روپے جمع ہو جا ئیں خدا کرے کہ ایسا ہی ہو جائے۔جس طرح یہاں کی رپورٹیں بڑی خوشکن ہیں اسی طرح وہاں کی رپورٹیں بھی بڑی خوشکن ہیں میں نے بتایا ہے کہ سکو تو کے گورنر نے حکم دے کر ۴۰،۴۰ ایکٹر زمین ہمارے سکولوں کے لئے دی ہے اس کے علاوہ ہسپتال کھولنے کے لئے ( جس کو وہاں ہیلتھ سنٹر کہتے ہیں ) بھی لوگ تعاون کر رہے ہیں غانا کے ایک پیرا ماؤنٹ چیف نے زمین کا ایک بہت بڑا قطعہ دیا ہے جس میں ایک کافی بڑی عمارت بھی بنی ہوئی ہے جو ہسپتال کے طور پر استعمال کی جاسکتی ہے۔اس نے کہا ہے کہ یہ لے لو اور یہاں ڈاکٹر بھیجو۔اسی طرح اس دورہ کے بعد پڑھے لکھے لوگوں کو احمدیت میں بڑی توجہ ہوگئی ہے۔نائیجیریا میں آبادان جو کہ بہت بڑا مسلم ٹاؤن ہے اس کی آبادی دس بارہ لاکھ ہے اور ۹۵ فیصد سے زیادہ مسلمان ہیں اس کے قریب اس عرصہ میں ۱۳ نئی جماعتیں قائم ہوگئی ہیں انہوں نے آبادان میں ہماری جماعت کے صدر کو جو افریقن ہیں خود بلایا کہ اس علاقے کے مختلف قصبوں کے لوگ فلاں وقت اکٹھے ہوں گے وہ آپ سے تبادلہ خیالات کرنا چاہتے ہیں چنانچہ وہاں دو تین گھنٹے کے تبادلہ خیالات کے بعد ان تیرہ قصبوں کے ۴۰ سے زیادہ آدمیوں نے بیعت کر لی۔وہاں احمدیت کی طرف بڑا رجحان پیدا ہو گیا ہے اور بھی کئی جگہ سے رپورٹیں آئی ہیں مثلاً سیرالیون میں بھی پانچ نئی جماعتیں قائم ہوگئی ہیں یہ بھی رپورٹ آئی ہے کہ نارتھ کے علاقے میں بہت توجہ پیدا ہوگئی ہے۔امید ہے وہاں بھی بہت سی نئی جماعتیں قائم ہو جائیں گی۔وہاں وہی کچھ ہورہا ہے اللہ تعالیٰ نے جس طرح یہاں شروع میں کیا تھا۔اب تو ہم اسلام آباد میں بھی مَا شَاءَ اللہ بہت سے احمدی بیٹھے ہیں بدر کے وقت مسلمانوں کی جو تعداد تھی کام کرنے والوں کی اس سے زیادہ مَا شَاءَ اللهُ صرف اسلام آباد کی تعداد ہے لیکن شروع میں پہلے ابتداء اس طرح کی اور یہ اللہ تعالیٰ کی سنت معلوم ہوتی ہے کہ کہیں ایک گھر احمدی ہو گیا کہیں دو گھر احمدی ہوگئے۔پھر انہوں نے ماریں کھائیں ، انہیں جو تیاں پڑیں ، گالیاں دی گئیں۔اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر قسم کی آگ میں سے گزارا