خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 219
خطبات ناصر جلد سوم ۲۱۹ خطبہ جمعہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۷۰ء اور ہر آگ جو ان کے لیے جلائی جاتی تھی۔ان کے کان میں اللہ تعالیٰ کی یہ پیاری آواز آتی تھی کہ آگ سے ہمیں مت ڈراؤ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔غرض حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ترین روحانی فرزند کے غلاموں کو سینکڑوں بلکہ لاکھوں دفعہ آگ میں سے گزرنا پڑا اور وہ آگ ان کے لئے پھول بن گئی۔ان کے جلانے کا باعث نہیں بنی۔وہاں مجھے ایک دن خیال آیا میں نے سیرالیون کا نقشہ سامنے رکھا اور وہاں ہمارے جو دو تین مبلغ ہیں ان سے میں نے کہا کہ جہاں جہاں احمدی ہیں وہ جگہیں مجھے بتاؤ تا کہ میں نقشے پر نشان کروں چنانچہ انہوں نے سر جوڑا۔کوئی آدھے پونے گھنٹے کے بعد انہوں نے مجھے مختلف جگہوں کے نام بتائے۔میں نے ان پر نشان لگا دیئے اور اس کے گھنٹے دو گھنٹے بعد جماعت سے ملاقات تھی۔میں ان سے پوچھتا تھا آپ کہاں کے رہنے والے ہیں؟ اگر چہ سارے نام تو حافظے میں یاد نہیں رہ سکتے تھے پھر نام بھی غیر ملکی تھے لیکن میں نے اندازہ لگایا کہ یہ بیسیوں ایسی جماعتوں کے نام بتا رہے ہیں جو مبلغوں نے مجھے نقشے پر نہیں بتائے تھے اور پھر یہ جماعتیں یوں بکھری ہوئی ہیں جس طرح ۲۰ ہزارفٹ کی بلندی سے گندم کے دانے ہوائی جہاز سے پھینکے جائیں تو وہ مختلف جگہوں میں بکھر جاتے ہیں۔اسی طرح وہاں ہماری جماعت بھی بکھری ہوئی ہے بالکل بارڈر تک یوں ہر جگہ ایک چکر لگا ہوا ہے جماعتوں کا کہیں کم ہیں اور کہیں زیادہ ہیں لیکن ہر جگہ پہنچے ہوئے ہیں۔اب غانا میں وا کی ہماری بڑی مخلص پگڑیاں پہنے والی جماعت ہے۔وہ جماعت احمدیہ کی وجہ سے پگڑیاں نہیں پہنتے بلکہ اس علاقے میں پہلے سے پگڑیاں پہنے کا رواج ہے۔بلکہ ہماری طرح وہ طرہ دار پگڑیاں پہنتے ہیں۔وہاں ہمارا عربی کا ایک ٹریننگ سکول بھی ہے اور اس جماعت نے سکول کے لئے زمین کا ایک بہت بڑا قطعہ بھی دیا ہے۔میں نے ان کو لکھا ہے کہ میں کلینک بھی بنواؤں گا اس کے لئے مجھے رپورٹ کرو۔اب یہ حالات ہیں۔بعض دفعہ میں اس وجہ سے پریشان ہو جاتا ہوں یہ پریشانی میرے لئے ہے اس کے بغیر چارہ نہیں ہے۔ویسے اللہ تعالیٰ کے وہاں بھی فضل دیکھے یہاں بھی فضل دیکھے۔آپ کے دلوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے یوں اپنے قبضہ میں لیا اور اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے سامان پیدا