خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 505
خطبات ناصر جلد سوم ۵۰۵ خطبہ جمعہ ۵ /نومبر ۱۹۷۱ء ذکر کیا ہے ) لیکن منافق کے متعلق قرآن کریم نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر اُس کی اپنی خواہش کے مطابق اُس قدر روپیہ جتنا وہ چاہتا ہے دے دیا جائے تو خوش ہو جاتا ہے اور راضی ہو جاتا ہے لیکن اگر اس کی خواہش کے مطابق نہ ملے تو وہ اعتراض شروع کر دیتا ہے۔منافقوں نے صدقات کے سلسلہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسے وجود پر اعتراض کر دیا تھا اور قرآن کریم نے اس کو ریکارڈ کیا ہے۔اس میں تو شرم کی بات نہیں کیونکہ وہ تو ایک ایسا وجود ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہے جس کے متعلق و ہم بھی نہیں ہو سکتا کہ وہ کسی قسم کی کمزوری دکھائے گا منافقوں نے اس کو بھی نہیں چھوڑا۔خلفاء کو بھی نہیں چھوڑتے ، نظام سلسلہ کو بھی نہیں چھوڑتے ، منافق کا یہ کام ہے تم اسے کرنے دو تمہارا جو کام ہے تم وہ کرو خدا تعالیٰ سے تجارت کرو اس یقین کے ساتھ کہ تم گھاٹے میں نہیں رہو گے کیونکہ اس نے وعدہ کیا ہے کہ جو میرے ساتھ تجارت کرے گا وہ گھاٹے میں نہیں رہے گا خدا تعالیٰ اپنے ہی دیئے ہوئے مال میں سے چوٹی لے گا تو چار ہزار دے دے گا۔بعض آدمیوں کو ( چونی کے بدلے ) چار لاکھ دے دیا۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ ذکر کیا ہے ایک صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں سلسلے کی خدمت کیا کرتے تھے اور غالباً تین روپے ماہانہ ملتا تھا پھر الہ تعالی نے فضل کیا اُن کے بیٹوں میں سے ایک ایک کو خدا تعالیٰ ۵ ہزار ، ۸ ہزار ، ۱۰ ہزار روپے ماہانہ دیتا رہا۔پس ایثار جو ہے وہ ضائع نہیں جاتا۔اس دنیا میں اللہ تعالیٰ اُس کا بدلہ دیتا ہے اور اگر اس کی مصلحت اسے پسند کرے تو اس دنیا میں نہ دے لیکن اگلے جہان میں اس کے مقابلے میں بہت زیادہ دے دیتا ہے۔ایک عاقل مومن صاحب فراست آدمی کی تو یہی خواہش ہوگی کہ جو جہنم کے حصے ہیں وہ یہیں مل جائیں۔جس طرح جنت اسی دنیا میں ہے اسی طرح جہنم بھی اسی دنیا میں ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مومن کو بخار کی گرمی میں جو جلنا پڑتا ہے یعنی ۱۰۴، ۱۰۵ یا ۱۰۶ کا بخار ہو جاتا ہے اس کو جہنم کا حصہ یہیں مل جاتا ہے اور اگلی زندگی کی دوزخ کی آگ سے محفوظ ہو جاتا ہے۔غرض ایک صاحب فراست مومن آدمی تو یہی خواہش کرے گا کہ اگر میری اپنی مستیوں