خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 504
خطبات ناصر جلد سوم ۵۰۴ خطبہ جمعہ ۵ /نومبر ۱۹۷۱ء نکلے گا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے تو میرے ساتھ تجارت کر رہا ہے یہ نہ دیکھ کہ تو نے ایک دھیلہ یا چوٹی دی ہے بلکہ یہ دیکھ کہ میں تجھے اس کے مقابلے میں کیا دیتا ہوں۔پس جس طرح ستر آخرچ کرنا ضروری ہے اسی طرح علانیہ خرچ کرنا بھی ضروری ہے یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے یہ مومن کی نشانی بتائی گئی ہے۔جب ہم جماعت کی طرف سے ( کئی ایسی شکلیں بھی بن جاتی ہیں کہ جو ایک ہی وقت ہی سرا بھی ہوتی ہیں اور علانیہ بھی ہوتی ہیں ) کارکنوں کو جو مستحق ہوں ان کی گندم کی ضرورت پوری کرنے کے لئے اور موسم سرما میں ( بہر حال زائد اخراجات ہوتے ہیں، اس میں ) ان کا ہاتھ بٹانے کے لئے ہمارے جماعتی ادارے قریباً ڈیڑھ لاکھ روپیہ سالا نہ خرچ کرتے ہیں یعنی علاوہ تنخواہ کے، جسے تنخواہ تو نہیں کہنا چاہیے۔اکثر اخلاص سے کام کر رہے ہیں اور انہیں گزارہ مل رہا ہے لیکن بہر حال اُن کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اور ان کی تکلیفوں کو دور کرنے کی نیت سے جماعت کم و بیش ڈیڑھ لاکھ روپیہ اپنے کارکنوں پر خرچ کرتی ہے اور یہ زیادہ تر ربوہ ہی میں رہنے والوں پر خرچ ہوتا ہے۔اب یہ رقم میرا بھی ہے اور علانیہ بھی ہے۔جہاں تک جماعت کے خرچ کرنے کا تعلق ہے یہ علانیہ ہے مثلاً اب میں نے اس خطبہ میں بیان کر دیا ہے ویسے بھی لوگوں کو پتہ ہے لیکن یہ رقم جماعت بناتی تو نہیں نا۔یہ تو زید اور بکر کے چندے کے پیسے آتے ہیں، ان میں سے جماعت نکالتی ہے غرض جہاں تک اُن افراد کا سوال ہے ( جنہوں نے چندہ دیا) یہ ستر اُ ہے، ان کو بھی پتہ نہیں اور یہ ستر ابھی بڑاز بردست ہے یعنی ایسا خفیہ خرچ ہے اُس فرد کا کہ اس کو بھی پتہ نہیں کہ جو خدا تعالیٰ کی راہ میں جماعتی نظام کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے خلفاء کی خواہشات پر لبیک کہتے ہوئے اور ان کی آوازسُن کر اس پر عمل کرتے ہوئے جو پیسہ دیا تھا اس کا کتنا حصہ کس طرح خرچ ہو گیا ان کو اس کا پتہ ہی نہیں۔غرض ان کے لحاظ سے یہ ستر ہے۔خفیہ طور پر خرچ ہوا ہے لیکن جماعتی لحاظ سے یہ علانیہ خرچ ہوا۔اس کے علاوہ جماعت غیر کارکنوں پر (جس کا پھر ۹۹ فیصدر بوہ ہی پر خرچ ہوتا ہے) قریباً ۶۰، ۷۰ ہزار روپیہ سالانہ خرچ کرتی ہے ( یہ اس ڈیڑھ لاکھ کے علاوہ ہوتا ہے جس کا میں نے ابھی