خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 448
خطبات ناصر جلد سوم ۴۴۸ خطبہ جمعہ ۲۵/ دسمبر ۱۹۷۰ء چھوٹی چھوٹی باتوں میں ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنا نہ شروع کر دینا ، ایک دوسرے کے اموال کو اپنے اوپر جائز نہ قرار دے دینا، خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تمہارے لئے ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔تم ایک فتویٰ دے کرنا جائز کو جائز قرار نہیں دے سکتے کیونکہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں اور میرا رسول ان کی عزتوں کے محافظ ہیں۔تم اپنے ہوائے نفس کی پیروی کرتے ہوئے کسی کی بے عزتی نہ کرنا۔اب پچھلے الیکشن کے دنوں میں بدزبانی نے کسی کو نہیں چھوڑا ان لوگوں پر بھی حملے کئے گئے جو بطور امیدوار کھڑے ہوئے تھے اور ان کی بیویوں اور بچوں کو بھی بدزبانی کا نشانہ بنایا گیا ہم دکھ میں پڑے رہتے تھے اور دعائیں کرتے رہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو سمجھ عطا کرے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شرف انسانی کا حسین پیغام لائے تھے۔آپ نے عزت نفس انسانی کو قائم کیا تھا لیکن لوگ اس کو بھول گئے اور ایک دوسرے کو گالیاں دینی شروع کر دیں اتہام لگانے شروع کر دیے وہ باتیں کہنی شروع کیں کہ ایک مسلمان کے منہ سے تو کیا ایک شریف غیر مسلم انسان کے منہ سے بھی نہیں نکل سکتیں۔ہمارے پاس سوائے دعا کے اور کوئی چارہ نہ تھا اللہ تعالیٰ سے جتنی توفیق ملی دعا کرتے رہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے۔اس وقت انتخابات کا جو نتیجہ نکلا ہے اس سے پتہ لگتا ہے کہ قوم ایک حد تک سیاست کے آخری مقصد کے حصول کے لئے قدم اٹھا چکی ہے۔الیکشن ہوئے ، پھر مارشل لاء کے قانونی فریم ورک کے مطابق کانسٹی ٹیوشن یعنی دستور بنے گا۔پھر ہمارے صدر صاحب اگر دیکھیں گے کہ قوم میں فساد نہیں پیدا ہوتا یا قوم کی یک جہتی اور اتحاد کے خلاف نہیں تو وہ اس کو منظور کریں گے پھر سیاسی حقوق کا انتقال ہوگا۔پھر اسمبلیاں بنیں گی جنہیں لیجسلیچر کہتے ہیں اور پھر یہ اسمبلیاں قوانین وضع کریں گی اور مختلف پارٹیاں جو حکومت بنائیں گی وہ اپنے اپنے پروگرام کے مطابق سکیمیں سوچیں گی اور قوانین بنائیں گی۔بہر حال یہ تو ایک لمبا عمل ہے البتہ ایک قدم عوام کے سیاسی حقوق کو قائم کرنے کی طرف اٹھایا گیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ جو چیز پرانے تجربہ کارسیاستدانوں کی نظر سے اوجھل تھی اور جس کے نتیجہ