خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 449 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 449

خطبات ناصر جلد سوم ۴۴۹ خطبہ جمعہ ۲۵/ دسمبر ۱۹۷۰ء میں انہیں شکست اٹھانی پڑی وہ یہ تھی کہ پچھلے ۲۳ سال میں ( جو پارٹیشن یعنی تقسیم ملک کے بعد ہماری قوم نے گزارے ہیں ) ہر سال ووٹروں کا ایک نیا گروہ ووٹروں کی لسٹ میں شامل ہوتا تھا۔ہر سال ۲۰ سال سے ۲۱ سال کی عمر کو پانے والا ووٹروں کی لسٹ میں آجا تا تھا، اس قسم کے ۲۳ نئے گروہ ووٹروں کی فہرست میں شامل ہوئے لیکن اس ۲۳ سال کے عرصہ میں ایک دفعہ بھی ان کو اپنے خیالات کے اظہار کرنے کا موقعہ نہیں ملا کیونکہ عام رائے دہی کے اصول پر اس سے پہلے انتخاب نہیں ہوئے اب یہ ۲۳ سال کا جو مجموعی گروہ ووٹروں کے حقوق حاصل کرنے والا اور ووٹروں کی فہرست میں داخل ہونے والا ہے یہ تھوڑا نہیں ہے میرے عام اندازے کے مطابق ووٹروں کا ۴۰ فیصد ایسا ہے جو اس ۲۳ سال میں ووٹ دینے کی عمر کو پہنچ کر ووٹر بنا اور جس نے اپنی زندگی میں پہلی دفعہ اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔یہ ایک بڑی طاقت ہے جیسا کہ پہلے سیاستدانوں نے ان کو حقوق کی ادائیگی میں چھوڑ دیا تھا اور ان کی طرف توجہ نہیں کی گئی تھی اسی طرح اب بھی انہوں نے ان کی نبض پر اپنی انگلیاں نہیں رکھیں۔ان کو پتہ نہیں تھا یہ اس بات کو بھولے ہوئے تھے کہ اس ۲۳ سال کے عرصہ میں سیاست کے اندر ایک ایسا گروہ آگیا ہے ( جو میرے اندازے کے مطابق ۴۰ فیصد ہے ) جسے ووٹ دینے کا پہلی دفعہ موقعہ ملا۔چنانچہ سیاستدان پرانی ڈگر پر چل رہے تھے مگر اس نئے گروہ نے جسے میرے نزدیک YOUNG PAKISTAN ( ینگ پاکستان ) یعنی نوجوان پاکستان کہنا چاہیے، اس نوجوان پاکستان نے یہ فیصلہ دیا وہ مذہبی اختلافات کے نتیجہ میں کسی کو لڑنے نہیں دیں گے، یہ ایک بڑا ہی عظیم فیصلہ ہے جو نو جوان پاکستان نے دیا ہے کوئی پندرہ میں قومی اسمبلی کے امید واروں کو احمدی کہہ کر ان کی مخالفت کی گئی مگر ان میں سے ایک نے بھی شکست نہیں کھائی۔یہ فیصلہ تھا اس نوجوان پاکستان کا کہ تم مذہب میں الجھا کر ہمارے جائز حقوق سے ہمیں محروم کرنا چاہتے ہو ہم یہ نہیں ہونے دیں گے۔اسلام نے ہمارے جو حقوق قائم کئے ہیں وہ ہمیں ملنے چاہئیں اور اب پہلے کی طرح کوئی مذہبی اختلاف اس راستے میں حائل نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ کا فضل ہے صوبائی اسمبلی کے انتخاب میں پانچ احمدی کامیاب ہوئے ہیں الْحَمدُ لِلَّهِ جو ہمارے