خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 275 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 275

خطبات ناصر جلد سوم ۲۷۵ خطبه جمعه ۱۴ اگست ۱۹۷۰ء اس نے دو تین خط لکھے کہ مجھے میرے خط کا جواب دینے کی ضرورت نہیں میں خود ہی لکھ دیا کروں گا لیکن میں نے اپنے دفتر والوں سے کہا کہ نہیں یہ سمجھتا نہیں میں سمجھتا ہوں اس کے خطوں کا جواب ضرور دینا ہے چنانچہ دوسرے تیسرے مہینے اس کا خط آتا ہے اور لکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ بالکل ٹھیک ہے۔اب وہ شخص غیر مسلم کئی ہزار میل دور مشرقی افریقہ میں بیماری کی تکلیف میں مبتلا تھا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ جو اعلان فرمایا ہے اس کی رو سے وہ یہ معجزہ دکھانا چاہتا تھا اور بتانا چاہتا تھا کہ یہ محض لفاظی نہیں ہے اور محض کاغذی اعلان نہیں ہے بلکہ فرماتا ہے کہ میں اس بات کی قدرت اور طاقت رکھتا ہوں کہ دنیا کو اس اعلان کے مطابق اپنی قدرتوں کے نظارے دکھاؤں اور وہ دکھا رہا ہے۔پس مشرقی پاکستان میں جو کچھ ہواوہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف تو نہیں ہوسکتا تھا ہمارے بھائی بڑی تکلیف میں ہیں گھر سے بے گھر ہو گئے سامان ضائع ہو گیا مکان گر گئے کھانے پینے کی تکلیف سے دو چار ہیں۔دوسری جگہ جا کر انسان کے لئے اگر چہ سب کچھ ہوتا ہے لیکن مہمان ہوتا ہے اور اپنی عادات کی وجہ سے اسے ہزاروں قسم کی تکلیفیں پہنچتی ہیں عزت نفس کا خیال ہوتا ہے چاہے حکومت ہی سر پر ہاتھ رکھ رہی ہو دوسرے لوگ بھی مدد کر رہے ہو نگے لیکن اس کے باوجود کئی لوگ ایسے بھی ہوں گے جنہیں اس پریشانی میں کھانے کے لئے مجبور لینا پڑتا ہوگا ان کا دل نہیں کرتا ہوگا۔ایک مہاجر کے متعلق یاد ہے وہ احمدی نہیں تھا وہ گورداسپور سے آیا تھا اس نے ہمارے خزانہ میں اپنا حساب کھلوایا ہوا تھا یہاں اُجڑ کر آیا تھا مجھے پتہ تھا کہ ایک دھیلہ ساتھ نہیں لا یا اور اس کا بہت بڑا خاندان تھا خیر چونکہ میں اسے ذاتی طور پر جانتا تھا میں نے اس سے پوچھا کہ تم تکلیف میں تھے مگر یہاں نہیں آئے وہ کہنے لگا اب بھی میں پیسے جمع کروانے کے لئے آیا ہوں لینے کے لئے نہیں آیا کیونکہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پہلا جمع شدہ سرمایہ خرچ نہیں کرنا کیونکہ پہلی پونجی اگر ہم نے ختم کر دی تو ہمیں سستی کی عادت پڑ جائے گی اس واسطے خاندان کے کمانے والے افراد سے کہہ دیا ہے کہ کماؤ اور کھاؤ۔