خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 170
خطبات ناصر جلد سوم ۱۷۰ خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۷۰ء ہزار سے زائد غیر مسلم مجھے دیکھ کر خوش ہوئے ویسے تو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔میں نے اللہ تعالیٰ کی بڑی حمد کی نہ جان نہ پہچان غیر مذہب کا ایک آدمی ان کے اندر آیا ہے یہ اسے دیکھ کر خوش ہورہے ہیں (وہاں مذہبی لڑائیاں نہیں لیکن ایک مخالفت تو ہے ناوہاں ہم نے اعلان کیا کہ ہم شکست دیں گے عیسائیت کو پیار کے ساتھ شکست دیں گے دلائل کے ساتھ ، آسمانی نشانوں کے ساتھ شکست دیں گے بہر حال ہمارا اور ان کا مقابلہ ہے ) لیکن اس کے باوجود مجھے دیکھ کر وہ خوش ہوتے تھے اس لئے کہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ وہ شخص ہے جو باہر سے آیا ہے ہمیں نہیں جانتا لیکن اس کے دل میں ہمارا پیار ہے اس کا جواب مجھے مل رہا تھا۔میں وہاں پر اپنے مبلغوں کو کہتا رہا تھا کہ دیکھو! نہ جان نہ پہچان نہ ہم مذہب نہ ہم خیال نہ کوئی واسطہ جب وہ مجھے دیکھتے ہیں تو میں مسکراتا ہوں تو وہ بھی مسکراتے ہیں۔بڑے افسردہ چہروں کو بھی میں نے دیکھا گو اتنے زیادہ افسردہ چہرے تو مجھے نظر نہیں آئے لیکن ایک سنجیدہ آدمی کو جب بھی میں نے مسکرا کر سلام کیا تو بشاش ہو کر اس کے دانت نکل آتے تھے اور سلام کا جواب مسکرا کر دیتا تھا میں نے اعلان کیا کہ آج کا دن مسکراہٹوں کا دن ہے، تقسم کرنے کا دن کا اعلان کر دیا۔میں نے کہا آج کے دن اتنی مسکراہٹیں چہروں پر کھلی ہیں کہ آج کے دن کو میں مسکراہٹوں کا دن قرار دیتا ہوں اور اس کا اعلان کرتا ہوں اور جب ان کے ہیڈ آف دی سٹیٹس سے میں نے ملاقات کی تو ان کو میں نے کہا کہ میں نے کل کے دن کو مسکراہٹوں کا دن قرار دیا ہے کیونکہ مسلم بھی غیر مسلم بھی عیسائی بھی مشرک بھی پچاس ہزار سے لاکھ تک مسکراہٹیں میں نے تمہاری قوم سے وصول کی ہیں اس پر وہ بڑا خوش تھا۔میں نے کہا کہ یہاں مجھے کوئی بدامنی کوئی غصہ کوئی رنجش کوئی لڑائی اس قوم میں نظر نہیں آئی چنانچہ وہ بڑا خوش ہوا اسے خوش ہونا چاہیے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑا اچھا لیڈر دیا ہے اور اس لیڈر کو دنیوی لحاظ سے بڑی اچھی قوم دی ہے ابھی ہم نے ان کو دین سکھانا ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت ان کے دلوں میں قائم کرنی ہے وہ علیحدہ بات ہے لیکن دنیوی لحاظ سے وہ قوم بڑی اچھی اور ان کا لیڈر بڑا اچھا پیار کرنے والا ہے۔پریس کانفرنس میں پوچھا گیا کہ آپ کا ہمارے لیڈر کے متعلق کیا خیال ہے؟ میں نے جواب میں کہا کہ تمہیں اپنے لیڈر پر فخر کرنا چاہیے۔