خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 169
خطبات ناصر جلد سوم ۱۶۹ خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۷۰ء والے چند ایک ان میں ہیں۔میں نے کہا پھر میں عربی بولوں گا۔پھر تقریر جو کرنی تھی عربی میں کی میں نے۔پھر ترجمہ ہوا اس کا پھر میں نے معانقہ کیا اور معانقہ سے ان کو جو خوشی ہوئی اس کا اندازہ آپ نہیں کر سکتے ان میں سے ایک کی تصویر سلائیڈ مولوی عبد الکریم صاحب نے لی وہ میں اپنے ساتھ لے آیا ہوں کسی وقت دکھاؤں گا۔آپ دیکھیں گے کہ ان کے چہرہ سے اطمینان اور محبت اور پیار اور اللہ تعالیٰ کی حمد کے ایسے ملے جلے جذبات کا اتنا خوبصورت مظاہرہ ہے کہ دل حمد باری سے بھر جاتا ہے پس اللہ کے فضل سے ہزاروں سے معانقہ کیا، ہر ملک میں اور سینکڑوں ہزاروں کو پیار کیا۔مجھے یقین ہے کہ ہمارے مبلغوں نے تین تین سالوں میں بھی اتنا پیار نہیں کیا ہوگا ، یہ قو میں پیار کی بھوکی ہیں، بڑے مخلص ہیں لیکن ہمارے بعض مبلغوں کو اس کا خیال نہیں ، وہ وہاں مستقل بیٹھے ہوئے ہیں ہر وقت کا ملنا جلنا ہے۔اگر وہ بھی اسی طرح بچوں سے پیار کریں بڑوں کو سینے لگائیں ان سے ہمدردی کریں اور پیار اور محبت کا مظاہر کریں ان کی بیویاں وہاں کی احمدی مستورات سے پیار کریں تو ساری قوم احمدیت قبول کر لے۔ایک دن میں پچاس ہزار سے ایک لاکھ عیسائی اور بدھ مذہب والوں کو میں نے دیکھا کہ مجھے دیکھ کر خوشی سے ناچنے لگتے ہیں ان پر کیا چیز اثر کر رہی تھی (ویسے تو اللہ کا فضل تھا اسی کا فضل ہے) انہوں نے دیکھا کہ ایسا آدمی آیا ہے جو ہم سے پیار کرتا ہے اور ہمارے بچوں کو سینہ سے لگا لیتا ہے ہمارے مردوں سے معانقہ کرتا ہے اور اسے اپنے آرام کا کوئی خیال نہیں ہمارے پیار میں محو ہے ان کے پیار سے میں نے جسمانی قوت بھی بڑی حاصل کی میں کم خور ہوں میں نیند ویسے بھی نہیں لے سکا لیکن اس محبت اور پیار سے میری روح غذا لے رہی تھی اور میرا جسم پوری طرح مطمئن تھا۔غرض یہ اثر عیسائیوں پر تھا۔آپ کہیں گے کہ یہ کیسے پتہ لگا کہ یہ عیسائی ہیں، عیسائیوں کا پتہ اس طرح لگتا تھا کہ مسلمان سڑکوں پر ناچتے نہیں عیسائی اور غیر مذہب والے ناچتے ہیں چنانچہ مجھے دیکھ کر جو ناچنے لگ جاتے تھے میں سمجھتا تھا کہ یہ یا عیسائی ہے یا مشرک ہے بہر حال مسلمان نہیں ہے۔احمدی ہو یا غیر احمدی اُن کی عورتیں اور مرد اس طرح سڑکوں پر نہیں ناچتے۔رقص اور ناچ عیسائی معاشرے کا حصہ ہے اسلامی معاشرہ کا حصہ نہیں ہے چنانچہ ایک دن میں پچاس