خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 153 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 153

خطبات ناصر جلد سوم ۱۵۳ خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۷۰ء وقت تک جو کام انہوں نے کیا اس سے یہی پتہ لگا وہاں کے پریذیڈنٹ ٹب میں بھی ان کو بڑی عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں سیرالیون میں ہمارے صدیق صاحب ہیں گیمبیا میں مولوی محمد شریف صاحب ہیں میں نے محسوس کیا کہ ان سب کو اللہ تعالیٰ نے مقام نعیم عطا کیا ہے اور جس طرح اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں میں نے ان کے لئے عزت کا مقام دیکھا اسی طرح دنیا کی نگاہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عزت اور احترام کا مقام عطا کیا ہے۔ہمارے سفراء ان کی تعریف کرتے تھکتے نہیں دوسرے ملکوں کے سفراء ان سے بڑے پیار سے ملتے ہیں اور پیار کے تعلقات ان کے ساتھ قائم ہیں حکومت ان سے راضی ہے عوام ان پر خوش ہیں غرض ہر لحاظ سے ان کے چہروں پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کی شادابی ہمیں نظر آتی ہے اور ہماری جماعت کو ان کے لئے بہت دعا ئیں کرنی چاہئیں اللہ تعالیٰ ہمیشہ انہیں ابرا رہی میں رکھے اور ہمیشہ اپنی نعمتوں کا وارث انہیں بنا تا ر ہے وہ ابرار کے گروہ میں ہی اس دنیا سے رخصت ہوں اور ابرار کے گروہ میں ہی اس دنیا میں وہ اٹھائے جائیں لیکن بعض نہایت افسوسناک مثالیں بھی نظر آئیں۔ایک نئے ناتجربہ کار مبلغ گئے ہوئے ہیں ( ہم مختلف مقامات پر جاتے تھے تو وہاں کے مقامی لوگ بھی ہمارے ساتھ ہوتے تھے ) ایک سفر میں ملک کی ساری جماعت کے پریذیڈنٹ اور ایک نوجوان مبلغ ایک ہی کار میں بیٹھے ہوئے تھے ہمارے قافلے کے بھی ایک دوست اسی کار میں تھے۔انہوں نے بتایا کہ اتنی بدتمیزی سے ہمارے مبلغ نے اس بوڑھے مومن فدائی سے بات کی کہ میں بڑا پریشان ہوا لیکن انہوں نے اس مبلغ کو کہا کہ دیکھو! میں پرانا احمدی ہوں ، احمدیت میرے رگ وریشہ میں رچی ہوئی ہے تمہاری اس بے ہودہ بات کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ، نہ ہو سکتا ہے لیکن میں تمہیں یہ بتا تا ہوں کہ اگر تم نے نوجوانوں کے سامنے اس قسم کی بات کی تو تم اس بات کے ذمہ دار ہو گے کہ تم انہیں احمدیت سے دور لے گئے ہو ایک اور کے متعلق پتہ لگا کہ ہمارے ایک سکول کے معائنہ کے لئے اس ملک کے محکمہ تعلیم کا انسپکٹر ہمارا افریقن بھائی آیا تو ہمارے مبلغ صاحب کہنے لگے کہ اس کے ساتھ میرا بیٹھنا میری ہتک اور بے عزتی ہے میں اس کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے رپورٹ کی کہ یہ سکول احمدیوں سے چھین لیا جائے اور اس پر قبضہ کر لیا جائے پھر ہمارے مبلغ